طاقت پرمبنی کشمیرپالیسی بے سود:یشونت سنہا

کہامسئلہ کشمیرحل کرنے کیلئے پاکستان کیساتھ مذاکرات ناگزیر

سرینگر:۲۴،مئی :کے این این / سابق مرکزی وزیریشونت سہنانے ’’طاقت پرمبنی کشمیرپالیسی کوبے سود‘‘قراردیتے ہوئے یہ واضح کیاہے کہ مسئلہ کشمیرحل کرنے کیلئے پاکستان کیساتھ مذاکرات ناگزیرہیں ۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نئی دہلی میں ایک کتاب کی رسم اجرائی کے موقعہ پرمنعقدہ تقریب میں اظہارخیال کرتے ہوئے بھاجپاکے سابق لیڈراورسابق مرکزی وزیریشونت سہناکاکہناتھاکہ مودی سرکار نے کشمیرکے حوالے سے جوطاقت پرمبنی پالیسی اختیارکررکھی ہے ،اُسے بے مغزکہاجاسکتاہے کیونکہ بقول موصوف اس پالیسی سے نہ توکشمیرمیں امن بحال ہوپائے گا،اورنہ کشمیرمسئلے کے حل کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کشمیر میں طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ پالیسی ناکام ہے۔یشونت سنہانے کہاکہ مضبوط پٹھوں سے کچھ حاصل نہیں ہوپائے گاکیونکہ طاقت آزمائی والے دماغ سے کام نہیں لیتے ۔وزیراعظم مودی کانام لئے بغیریشونت سنہاکاکہناتھاکہ پٹھے بھلے کتنے مضبوط کیوں نہ ہوں ،لیکن جب تک دماغ کاصحیح استعمال نہ کیاجائے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔انہوں نے پاکستان کیساتھ تعطل کے شکارمذاکراتی عمل کوبحال کرنے کی وکالت کرتے ہوئے واضح کیاکہ مسئلہ کشمیرکاحل نکالنے کیلئے پاکستان کیساتھ مذاکرات لازمی عمل ہے۔سال2016کی ایجی ٹیشن کے دوران ایک غیرسرکاری وفدکیساتھ کئی مرتبہ سری نگرکادورہ کرکے یہاں سیدعلی گیلانی سمیت کئی مزاحمتی اورمین اسٹریم لیڈروں کیساتھ مذاکرات کرنے والے سینئرسیاستدان اورپالیسی سازیشونت سنہانے تقریب کے دوران بتایاکہ سرحدوں پرطاقت آزمانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگاجبکہ سرحدی آبادی کی مشکلات کاسلسلہ طول پکڑجائیگا۔

Comments are closed.