سرحدوں پر جاری تناؤ اور کشیدگی پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اظہار تشویش

نقل مکان کرنے والوں کے قیام وطعام کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی تاکید

سرینگر /24مئی / صدرجموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لائن آف کنٹرول پر جنگ کا سماں جاری رہنے پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے سربراہوں اور فوجی قیادت سے پھر ایک بار اپیل کی ہے کہ وہ سرحدون پر جاری تناؤ گولہ بھاری اور شلنگ کو بند کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ آر پار شلنگ سے سرحد کے نزدیک رہنے والے لوگ گزشتہ دہائیوں سے جاری اپنی قیمتی جانوں کی تلافی دیتے رہے اور کل ہی کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل ہونے پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نہایت رنج والم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روحوں کی شانتی کے لئے دعا کی ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سرحد کے نزدیک آرپار لوگوں کی نقل مکانی اور وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں ہونے پر گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے ان کے رہائشی مکانات تباہ اور زمین بوس ہونے پر ، ان کے فصلے تباہ ہونے پر اور سکول بند رہنے پر زبردست کا افسوس کا اور مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا کب تک آر پار کے لوگ اس مصیبت سے چٹکارا پا سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی اور ریاستی سرکاروں سے تاکید کی کہ وہ نقل مکان لوگوں کی قیام و طعام کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے اور آر پار فائرنگ ، شلنگ ، گولہ بھاری سے جولوگ لقمہ اجل بن گئے ان کے لواحقین کو معقول مالی معاونت فوری طور پر فراہم کی جائے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آر پار یو این او کے مشاہدین اور یواین او کے اعلیٰ حکام بھی خاموشی اختیار کر رکھے ہے اور اپنے فرائض خوش اصلوبی سے دینے سے قاصرہے حالانکہ ان کا کام ہے دونوں ممالکوں کو جنگ سے گریز کرانا ، عام شہریوں کی زندگی کی رکھوالی اور دونوں ممالکوں کے درمیان صلح صفائی اور جنگ سے گریز کرنے کی تاکید کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے خود یو این او کا مرکزی عدالت ( یواین او) بھی اب تک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن بات چیت شروع کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی امن پسند ممالک اور آر پار کے امن پسند رہنماء بھی اپنے سربراہوں سے اپیل کرتے رہتے ہیں کہ ہندوستان اورپاکستان مل کر اپنی حل طلب مسائل خصوصاً مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور پر حلکریں۔ لیکن بدقسمتی سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں مرکزی قیادت کی پالیسی غیر سنجیدہ رہی ہے اور جس کی وجہ سے آج تک آر پار کے لوگوں کو ( کشمیری لوگوں ) کو مصیبت اور مصائب کے ساتھ ساتھ مشکلات کے پہاڑ جیلنے پڑھتے ہیں ۔ گزشتہ 8 دہائیوں سے نیشنل کانفرنس اور اس کی عظیم قیادت ہندوستان اور پاکستان کو اپیل کرتے رہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو امن بات چیت کے ذریع طے کرے تاکہ برصغیر خصوصاً ریاست میں امن کا فضا کا قائم ہوسکیں اس کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر امن کا ماحول قائم ہوسکیں ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر آر پار کے رہنماؤں نے آزادی کے بعد ہی مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پہل کی ہوتی حالانکہ دونوں ممالکوں کے اولین ملک کے سربراہوں اور وزیر اعظموں نے اہل کشمیر کے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مسئلہ کو کشمیری لوگوں کے مرضی اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے کیونلہ اہل کشمیر ہی اس سرزمین کے مالک ہے اور اولین فریق لیکن بدقسمتی ایسا نہ ہوسکا اور جس کے نتیجہ میں اہل کشمیر برابر عتاب میں ہے اور اس وقت ایک تباہ کن دور سے گزر رہے ہیں۔ ریاست کے لوگ خصوصاً وادی کشمیر ، خطہ چناب کے لوگ اس وقت زبردست مشکلات سے دوچار ہے ریاستی عوام ایک طرف اقتصادی بدحالی ، معاشی بدحالی بے روزگاری کے بھنیو میں پھنسے ہیں دوسری طرف سیاسی انتشار ، ریاست میں غیر یقینت ، لاقانونیت کا ماحول ہر سو چھایا ہوا ہے ، لوگ ہر سو عدم تحفظ کے شکار ہوچکے ہیں اور بدقسمتی سے موجودہ حکمران بھی لوگوں کے مشکلات حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ادھر صوبہ جموں کے صدر صوبہ اور ایم ایل اے شری دیویندر سنگھ رانا ، صوبائی صدر یوتھ اور سابق ایم ایل اے پونچھ اعجاز احمدجاں ، ایم ایل اے مینڈھر جاوید رانا اور دیگر درجنوں پارٹی عہدیداراں کارکنان نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور جناب فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی طرف سے اس مصیبت کی گھڑی میں ان کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے بھی متعلقہ حکام سے اپیل کی وہ متاثرہ لوگوں کی باز آبادکاری کے لئے فوری اقدامات کریں۔

Comments are closed.