پلوامہ کے سائنسی مضامین کے طالب علم کا کارنامہ ،16سال کی عمر میں کئی اُردو مضامین اور افسانے تحریر کئے
سرینگر؍؍اُردو زبان کے بارے میں جہاں ایک طرف یہ کہا جاتا ہے ہے کہ اس کا حلقہ دن بہ دن تنگ ہو رہا ہے وہی دوسری جانب جنوبی ضلع پلوامہ کے برپورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے سائنسی مضامین کے طالب علم اور نوعمر قلمکار ساحل احمد لون نے ۱۶ سال کی عمر سے ہی وادی کے کثیرالاشاعت اُردو روزناموں کے لئے افسانے اور کالم لکھ کر ایک نئی تاریخ رقم کی ۔جے کے این ایس نمائندے تنہا ایاز کے ساتھ بات کرتے ہوئے ساحل احمد لون نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی اُردو کے ساتھ لگاؤ تھااور میں بچپن سے ہی اُردو کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا۔ساحل نے اب تک تقریباً ۵۰ سے زائد ناولوں کا مطالعہ کیا ہے جن میں شہرۂ آفاق ناولیں پیر کامل،ایک محبت اور سہی،بچپن کا دسمبر،جنت کے پتے ،میری ذات ذرۂ بے نشاں،عشق کا قاف ،پُکار،2 states،One indian girl،3 mistakes of my life،حHalf motherاپنے دُکھ مجھے دے دو،میدان عمل وغیرہ بھی قابل ذکر ہے۔وہ گیارویں جماعت میں زیر تعلیم ہے اور تقریباً ڈیڈھ سال سے زائد عرصے سے وادی کے کثیرالاشاعت روزناموں کے لئے افسانے اور کالم لکھ رہے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ وہ کن موضوعات پر افسانے لکھتے ہے،اُنہوں نے کہا دراصل ادب زندگی کا ترجمان ہے اور اور وہ زندگی کے حقائق کے بارے میں ہی لکھتے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے سیاسی امور سے خاصی دلچسپی ہے اور میں اپنے کالموں کے ذریعے زیادہ تر سیاسی امور کو ہی موضوعِ بحث بناتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابتدائی دنوں چند تنگ نظر لوگ میری نکتہ چینی کرتے تھے لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور میں مسلسل اپنی تحریروں کے ذریعے اُردو زبان و ادب کی خدمت کرتا رہا ۔اُن کی تقریباً ۶۰ تحریریں اب تک وادی کے کثیرالاشاعت روزناموں،تعمیل ارشاد،کشمیر عظمیٰ،چٹان ،بلند کشمیر وغیرہ میں شائع ہ ہوچکی ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ لکھنے کے لئے کون سی صلاحتیں ہونی چاہیے،اُنہوں نے کہا کہ اُس کے لئے تخیل ہونا چاہیے اور ہمیں مطالعہ بھی کرتے رہنا چاہیے۔ساحل نے اس بات کی تردید کی کہ اُردو کا حلقہ آئے روز تنگ ہوتا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا دُنیا میں آج بھی اُردو کے لاکھوں لکھنے اور بولنے والے موجود ہے اور اس کا خاتمہ ناممکن ہے۔
Comments are closed.