مسئلہ کشمیر اور فلسطین کیلئے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل کیا جائے

غزہ اور کشمیر کی صورت حال پر او آئی سی اجلاس میں پاکستانی وزیراعظم کا آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

سرینگر/19 مئی اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے سفاکانہ قتل عام اور کشمیر کی موجودہ صورتحال کا اجاگر کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ہنگامی اجلاس میں پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسرائیلی فوج کیہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں جمعے کو یوم یکجہتی فلسطین کے طور پر منایا گیا۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ اختلاف بھلا کر او آئی سی پلیٹ فارم سے مضبوط مؤقف دینے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین کیکے حل کیلئے اپنی قراردادوں پرعمل کرائے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کشمیر کے عوام بھی 70 سال سے بھارتی جبر و استبداد کا شکار ہیں اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت پرعملدرآمد نہیں کررہاہے، قابض افواج کے خلاف معاشی اور دیگر اقدامات کرنے ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین پر سلامتی کونسل کی قراردادوں سے بھی انحراف کیاجارہاہے جبکہ فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آپس کے سیاسی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا اور فلسطین اور کشمیر کے معاملات پر مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کیلئے عالمی عدالت انصاف کےآپشن پربھی غورکرناچاہیے، ان کے قتل عام اور ریاستی دہشتگردی کاخاتمہ ضروری ہے۔شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ آزاد اور خود مختار فلسطین چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہے۔او آئی سی سربراہ اجلاس اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر بلایا گیا ہے جس کی صدارت ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کررہے ہیں۔ادھر اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے استنبول میں ریلی نکالی گئی جس میں پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی۔

Comments are closed.