کٹھوعہ کیس :عدالت عظمیٰ کا سی بی آئی کومنتقلی سے پھر انکار

ملزم ویشال کے حق میں گواہی دینے والوں کی عرضی بھی خارج

نئی دہلی:۱۶،مئی:کے این این/ سپریم کورٹ آف انڈیانے’’کٹھوعہ کیس کی سی بی آئی کومنتقلی سے صاف انکار‘‘کرتے ہوئے ملزم ویشال کے حق میں گواہی دینے والے3نوجوانوں کوتحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ۔چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے سہ رُکنی بینچ نے ملزم کے گواہوں کی جانب سے 14مئی کودائرعرضی خارج کرتے ہوئے اس کیس کی اگلی شنوائی کیلئے17مئی کی تاریخ مقررکردی ۔اس دوران بھاجپاکی ریاستی شاخ کے نئے صدررویندررینانے بدھ کے روزسری نگرمیں یہ واضح کردیاکہ کٹھوعہ آبروریزی اورقتل واقعے میں ملوث ملزمان کوقرارواقعی سزاملے گی تاہم انہوں نے کہاکہ کوئی بے قصورپریشان نہیں ہوناچاہئے۔خیال رہے عدالت عظمیٰ نے 7مئی کوکٹھوعہ کیس کوسماعت کیلئے کٹھوعہ کورٹ سے پٹھانکوٹ پنجاب کی عدالت میں منتقل کرنے کاحکم صادرکرتے ہوئے یہ واضح کردیاتھاکہ یہ معاملہ جانچ کیلئے مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی )کے سپردنہیں کیاجائیگاکیونکہ متاثرہ کنبے نے ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کی جانب سے کی جارہی تحقیقات پرکوئی سوال نہیں اُٹھایاہے ۔کے این این کے مطابق سانحہ کٹھوعہ کے ملزمان کواسوقت ایک اورناکامی کاسامناکرناپڑاجب عدالت عظمیٰ نے بدھ کے روزایک ملزم ویشال جنگوترا کے حق میں گواہی دینے والے اُسکے تین دوستوں کی جانب سے دائرعرضی کوخارج کردیا۔سانحہ کٹھوعہ کے سرغنہ ملزم سانجھی رام کے بیٹے ملزم ویشال جنگوترا کے تین دوستوں نے اپنے قانونی صلاح کارایڈووکیٹ روی شرماکے ذریعے14مئی کوعدالت عظمیٰ میں دائرکردہ عرضی میں الزام عائد کیا تھا کہ کشمیر پولیس کی کرائم برانچ اُنہیں پریشان کر رہی ہے۔ عرضی میں میں کہا گیا تھا کہ تینوں گواہوں کو پولیس پریشان کر رہی ہے اور انھیں بیان قلمبندکرانے کیلئے باربارطلب کیاجاتاہے جبکہ انہوں نے دائرعرضی میں یہ الزام بھی لگایاکہ اُنکے افرادخانہ پرریاستی پولیس اورکرائم برانچ دباؤ بنا رہی ہے۔تاہم چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے سہ رُکنی بینچ نے ملزم کے گواہوں ساحل شرما، سچن شرما اور نیرج شرما کی جانب سے وکیل روی شرما کے ذریعے دائر عرضی کونامنظورکرتے ہوئے واضح کردیاکہ گواہوں کوکوئی حفاظت فراہم نہیں کی جاسکتی ہے ۔اس دوران سپریم کورٹ آف انڈیانے کٹھوعہ کیس کی سی بی آئی کومنتقلی سے صاف انکارکرتے ہوئے اس کیس کی اگلی شنوائی کیلئے17مئی کی تاریخ مقررکردی ۔اس دوران بھاجپاکی ریاستی شاخ کے نئے صدررویندررینانے بدھ کے روزسری نگرمیں یہ واضح کردیاکہ کٹھوعہ آبروریزی اورقتل واقعے میں ملوث ملزمان کوقرارواقعی سزاملے گی تاہم انہوں نے کہاکہ کوئی بے قصورپریشان نہیں ہوناچاہئے۔خیال رہے عدالت عظمیٰ نے 7مئی کوکٹھوعہ کیس کوسماعت کیلئے کٹھوعہ کورٹ سے پٹھانکوٹ پنجاب کی عدالت میں منتقل کرنے کاحکم صادرکرتے ہوئے یہ واضح کردیاتھاکہ یہ معاملہ جانچ کیلئے مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی )کے سپردنہیں کیاجائیگاکیونکہ متاثرہ کنبے نے ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کی جانب سے کی جارہی تحقیقات پرکوئی سوال نہیں اُٹھایاہے ۔

Comments are closed.