یکطرفہ جنگ بندی غیر معمولی پیش رفت :وزیر اعلیٰ

اہم فیصلے سے مذاکرات کیلئے ساز گار ماحول تیار کرنے میں مدد ملے گی

سرینگر:۱۶،مئی :کے این این ؍ خاتون وزیر اعلیٰ نے محبوبہ مفتی نے یکطرفہ جنگ بندی کو غیر معمولی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ریاست میں پائیدار مذاکرات کیلئے ساز گار ماحول تیار کرنے میں مدد ملے گی ۔محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کل جماعتی اجلاس میں شامل ہوئی جماعتوں کا اس متفقہ تجویز میں اہم رول رہا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکز کی جانب سے’ رمضان سیز فائر ‘ کے اعلان کا خیر مقدم کیا ۔انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا ۔وزیر اعلیٰ نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹوئیٹس میں تحریر کرتے ہوئے کہا ’ میں دل کی عمیق گہرائیوں سے رمضان سیز فائر فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہوں ،اور میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ کی ذاتی مداخلت کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں ‘۔محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں مزید کہا ’میں ان لیڈران اور جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں ،جنہوں نے کل جماعتی میٹنگ میں حصہ لیا اور مرکز کے اس اعلان پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مددکی ‘۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک ٹوئیٹ میں تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان امن کا داعی ہے اور ایسے اعلان سے جموں وکشمیر میں امن وامان اور بات چیت کیلئے سازگار ماحول تیار ہو گا۔اس سے قبل ہی ماہ رمضان کے مقدس کے موقعے پر وزیر اعلیٰ نے اپنے ایک ٹو ئیٹ میں کہا تھا ’رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ فراخدلی ،نظم و ضبط اور تقویٰ و پرہیز گاری کا درس دیتا ہے۔مجھے امید ہے یہ مہینہ ہمیں مشکلات ،غیر یقینیت اور تشدد سے پاک ایک دور میں لے جائے گا۔آئے ہم سب اللہ کیحضورسربسجودہوکرمغفرت ،رحمت اور قرب الہٰی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔‘یاد رہے کہ 9مئی کو ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں مین اسٹریم جماعتوں کی جانب سے ماہِ رمضان ،عید اور امرناتھ یاترا کے پیش نظر جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی تھی ۔اس سلسلے میں بحالی امن واعتماد کیلئے جامع حکمت عملی پر اتفاق کرتے ہوئے مین اسٹریم جماعتوں نے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے طویل مشاورتی اجلاس کے دوران کشمیر میں پر تشدد سرگرمیاں اور ہلاکتوں کا سلسلہ بڑھنے پر تشویش ظاہر کی تھی ۔اپوزیشن لیڈران نے مخلوط سرکار اور نئی دہلی کو کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کشمیر مسئلے کے حوالے سے آزادانہ اظہارِ رائے پر قدغن لگا کر پرامن و سیاسی راستے محدود کردئے گئے ۔علی محمد ساگر ،غلام احمد میر ،حکیم محمد یاسین اور محمد یوسف تاریگامی نے مذاکراتی عمل کو بامعنیٰ اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے مکالمے میں پاکستان اور کشمیری علیحدگی پسندوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی وکالت کرتے ہوئے واضح کیا تھاکہ طاقت کے بے جا استعمال اور آل آؤٹ آپریشن جیسے حربوں سے کشمیر میں امن بحال نہیں ہوسکتا ہے ۔ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے ماہ مبارک کے پیش نظر یکطرفہ جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا تھاکہ جنگجو مخالف آپریشن اور نوجوانوں کے خلاف سخت اقدامات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔اس دوران وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ’ یکطرفہ جنگ بندی کی متفقہ تجویز پیش ‘ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کشمیر میں خون خرابہ بند کرانے کیلئے مفاہمت پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں ۔انہوں نے وزیر اعظم مودی کو کشمیر سے متعلق واجپائی کا اپروچ اپنا نے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاتھا کہ ایجنڈا آف الائنس کے روڑ میپ ہونے سے سبھی سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ۔وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کی ہلاکت اور عسکری رجحان پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاتھا کہ اگر کشمیر کی صحیح صورتحال نئی دہلی میں پیش کی جائے ،تومرکزی حکومت جنگ بندی تجویز ضرور غور کرے گی ۔

Comments are closed.