ممبئی کا اسماعیل یوسف کالج مسلمانوں کے ادارہ انجمن اسلام کے سپرد کیا جائے :صدرانجمن ڈاکٹر ظہیر قاضی

ممبئی 16مئی :ممبئی میں واقع حکومت کے زیرنگرانی مسلمانوں کے معروف ادارہ اسماعیل یوسف کالج کو اقلیتی فرقے کے سپرد کردیا جائے کیونکہ تقریباً ایک صدی قبل1914میں ادارہ کے قیام کے لیے حکومت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی ،لیکن چند سال قبل ریاستی حکومت نے کالج کی زمین کو مبینہ طورپر دیگر سرکاری اور نجی اداروں کو سونپنا شروع کردیا جوکہ تشویش ناک ہے اور اقلیتوں کو دیے جانے والے حقوق کے منافی ہے۔اس بات کا اظہار انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اقلیتی فرقے کے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،جو مہاراشٹراین سی پی کے نومنتخب صدرجینت پاٹل کی تہنیت میں منعقد کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ظہیرقاضی نے اس موقع پر اسماعیل یوسف کالج کی تاریخ اور اس کے قیام کے بارے میں تفصیل پیش کرتے ہوئے جینت پاٹل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور این سی پی کے سابقہ اقتدار میں مسلسل وعدے کے باوجود اس کالج اور اس کی کئی سوایکٹرقطعہ اراضی کو مسلمانوں یا ان کے کسی ادارے کونہیں سونپا گیا حالانکہ عدالت عالیہ نے انجمن اسلام کو کئی اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں جن میں غریب اور ضرورت مندمسلم بچوں کے داخلے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ1914میں سراسماعیل یوسف نے برٹش حکومت کو ایک بھاری رقم دے کر مسلمانوں کے لیے تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی منشاء ظاہر کی ،لیکن پہلی عالمی جنگ چھڑجانے کی وجہ سے معاملہ التواء میں پڑگیا ،جس کے چندسال بعد سریوسف نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد حکومت نے مضافاتی علاقہ جوگیشوری میں قطعہ اراضی خریدی اوریہاں کالج تعمیرکیا گیا جوکہ 1929میں شروع ہوا ۔ احاطہ میں کالج کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایک ہوسٹل اور ایک مسجد تعمیر کی گئی جوکہ شرائط میں شامل تھا اور اس کے مطابق ہی مسلم طلباء کو ترجیحی بنیاد پر داخلہ دینے کا عمل شروع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد 1956میں ریاست بمبئی کے چیف سکریٹری نے اپنے طورپر چیئریٹی کمشنر کو خط لکھا کر کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد اور ایک سیکولر دستور کے سبب یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک مخصوص فرقہ کے لیے الگ سے تعلیم کا انتظام کیا جائے ۔کئی عدالتی لڑائیوں اور انتظامیہ کے رویہ کے سبب معاملہ التواء میں پڑرہا ،لیکن 1986میں ایک ہوسٹل کو محکمہ تعلیم کے حوالے کردیا اور پھر 1995میں جب شیوسینا ۔بی جے پی اتحاد کی سرکار برسراقتدار آئی تو انہوں نے کالج کے احاطے میں چھیڑچھاڑ شروع کردی اور سرکار ی اور زمین نجی اداروں کو الاٹ کرنا شروع کردیاگیا جس پر اقلیتی فرقے کے اداروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے اسٹے دے دیا۔ہائی کورٹ نے یہ بھی کہاکہ یہ ایک سرکاری کالج نہیں ہے اور اسے کسی اقلیتی ادارہ کو سونپ دینا چاہئے ۔ چندسال قبل موجودہ حکومت نے وہاں لاء یونیورسٹی بنانے کا منصوبہ بنایا ، لیکن احتجاج کے بعد اس فیصلہ کو واپس لے لیا گیا ۔
ڈاکٹر ظہیر قاضی نے مزید کہا کہ گزشتہ کانگریس ۔این سی پی حکومت نے2014سے قبل محمودالرحمن کمیٹی کی تشکیل کی تھی جس نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سفارش کی کہ اسماعیل یوسف کالج اقلیتی ادارہ ہے اور اسے انجمن اسلام کے سپرد کیا جائے کیونکہ اس کی زیر نگرانی تقریباً سوادارے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد بچے زیرتعلیم ہیں۔اور کالج سے اس کی وابستگی بھی ہے۔جبکہ 20فیصد بچوں کا داخلہ انجمن اسلام کی سفارش سے کیے جاتے ہیں۔انہوں نے ریاستی این سی پی سربراہ سے گزارش کی کہ 2019میں این سی پی ۔کانگریس محاذ اگراقتدار میں آتا ہے تو اس اقلیتی تعلیمی ادارہ کو اقلیتی فرقہ کے حوالے کردیا جائے ۔اس معاملہ سے این سی پی سربراہ شردپوار بھی واقف ہیں ۔
یو این آئی

Comments are closed.