سرینگر کی پریس کالونی میں اس وقت ” ہماری مانگیں پوری کروں “ کے نعروں کی گونج سنائی دی جب منگل وار کی صبح جسمانی طو رپر نا خیز افراد کی بڑی تعداد نے اپنے دیرینہ مطالبات، حقوق اور مسائل کے حل کیلئے احتجاج شروع کردیا ۔ احتجاج میں جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے جسمانی طور پر خصوصی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور انہوںنے سرکار پر زور دیا کہ ان کے مطالبات کو حل کیا جائے ۔
اس موقعہ پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جسمانی طور پر ناخیز افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈ ی کپیڈ ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر عبدالرشید بٹ نے کہا ہے کہ سرکار کی جانب سے انہیں بار بار نظر اندا ز کیا جا رہا ہے اور احتجاج کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مرتبہ جموں کے ڈوگرہ چوک میں ایسوسی ایشن کی جانب سے تقریباً 19 روز تک احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا، جس کے دوران انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے مظاہرین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے متعدد یقین دہانیاں کرائی تھیں، تاہم احتجاج ختم ہونے کے بعد ان وعدوں پر خاطر خواہ عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
عبدالرشید بٹ نے کہا کہ گزشتہ احتجاج کے دوران کمشنر سوشل ویلفیئر، سیکرٹری سوشل ویلفیئر، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، تحصیلدار جموں سمیت پولیس اور انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ ان کے مطابق اس دوران یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی لیفٹنٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور سوشل ویلفیئر منسٹر سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کرائی جائے گی۔
ریاستی صدر نے کہا کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد ایسوسی ایشن نے ان اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے لیے متعدد مرتبہ ای میلز ارسال کرنے کے علاوہ ہارڈ کاپیاں بھی بذریعہ ڈاک روانہ کیں، تاہم بدقسمتی سے انہیں ملاقات کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ احتجاج کے دوران دی گئی یقین دہانیوں کے باوجود زمینی سطح پر کوئی ایسی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی جس سے جسمانی طور پر خصوصی افراد کو یہ یقین ہو کہ ان کے مسائل واقعی حل کیے جا رہے ہیں۔