اقتصادی جرائم ونگ کشمیر نے سنٹرل کوآپریٹو بینک کی لنگیٹ شاخ میں مبینہ طور پر تقریباً 3.11 کروڑ روپے کی خرد برد کے معاملے میں دو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔
کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ کشمیر کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ کیس زیر نمبر 25/2016کے تحت RPC کی دفعات 420، 468، 471 اور 120-Bکے تحت یہ چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، ہندوارہ کی عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ مذکورہ دفعات دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہیں۔
ترجمان کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات ا±س وقت شروع کی گئی تھیں جب اس وقت کے رجسٹرار، کوآپریٹو سوسائٹیز، جموں و کشمیر کی جانب سے تحریری طور پر شکایت موصول ہوئی، جس میں سنٹرل کوآپریٹو بینک، بارہمولہ کی مختلف شاخوں میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور رقم کی خرد برد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ لنگیٹ شاخ کے ا±س وقت کے برانچ منیجر نے دیگر ملزمان کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے فرضی قرضے منظور کیے اور اپنے مقررہ مالی اختیارات سے کہیں زیادہ رقم کے اوور ڈرافٹ کی اجازت دی۔ اس عمل کے نتیجے میں بینک کے تقریباً 3.11 کروڑ روپے کے فنڈز میں مبینہ طور پر خرد برد کی گئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمان نے ایک مجرمانہ سازش کے تحت مبینہ طور پر ان جعلی مالی لین دین کو انجام دینے میں سہولت فراہم کی، جس سے بینک کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔
کرائم برانچ کے مطابق تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے الزامات کی تائید ہوئی، جس کے بعد معاملے کو عدالتی فیصلے اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ عدالت کے سامنے چارج شیٹ کی صورت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
اس کیس میں چارج شیٹ کیے گئے ملزمان کی شناخت غلام محمد بیگ، ریٹائرڈ برانچ منیجر، ساکن کنیال ترٹھ پورہ، ہندوارہ، اور عبدالحمید گوجری، کیشیئر کم کلرک، ساکن گنڈ کریم خان، رفیع آباد کے طور پر ہوئی ہے۔
کرائم برانچ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے اقتصادی فراڈ اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف چوکس رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع ایس ایس پی یا تحقیقاتی ایجنسی کشمیر کو دیں۔