نئی پارٹی بنانے کی قیاس آرائیاں بے بنیاد / آغا روح اللہ

نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے نئی سیاسی جماعت بنانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک کوئی نئی پارٹی تشکیل نہیں دی ہے اور اس حوالے سے میڈیا ان سے زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

بڈگام میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ نئی پارٹی بنانے کی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا”ایسا لگتا ہے کہ میڈیا مجھ سے زیادہ بے تاب ہے کہ میں نئی پارٹی بناو¿ں۔ اگر آپ لوگ نئی پارٹی بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیجیے، پھر میں دیکھوں گا کہ وہ اچھی پارٹی ہے یا نہیں، اس کے بعد فیصلہ کروں گا کہ اس میں شامل ہونا ہے یا نہیں“۔

انہوں نے نیشنل کانفرنس کی جانب سے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شرکت سے بھی صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی اپنا مو¿قف واضح کر چکے ہیں۔آغا روح اللہ نے کہا کہ عوام نے نیشنل کانفرنس کو دفعہ 370 کی بحالی کیلئے مینڈیٹ دیا تھا، نہ کہ صرف جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا”میں واضح کر چکا ہوں کہ میں جنتر منتر احتجاج میں شامل نہیں ہوں گا۔

ہماری اصل ذمہ داری دفعہ 370 کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنا ہے کیونکہ یہ ہماری شناخت، وقار اور آئینی حیثیت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ عوام نے ہمیں دفعہ 370 کے لیے ووٹ دیا تھا، صرف ریاستی درجہ کے لیے نہیں“۔آغا روح اللہ نے الزام عائد کیا کہ سیاسی بحث کو صرف ریاستی درجہ تک محدود کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا”بی جے پی چاہتی ہے کہ ہم باقی تمام مسائل بھول جائیں اور صرف ریاستی درجہ کا مطالبہ کریں۔ گزشتہ ستر برس کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم سے جو بھی حقوق یا اختیارات چھینے گئے، وہ کبھی واپس نہیں کیے گئے۔ اگر ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھیں گے تو یہ ہمارے لیے نقصان دہ ہوگا“۔بی جے پی پر نیشنل کانفرنس کے اراکین کو توڑنے اور مبینہ گھوڑا فروشی کے الزامات سے متعلق سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں گھوڑا فروشی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، چاہے اس میں کوئی بھی سیاسی جماعت ملوث ہو۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوام کے اعتماد اور ووٹ کا احترام ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کوشش کی مخالفت ہونی چاہیے۔

Comments are closed.