صدیوں سے زیر قبضہ قابل کاشت اراضی کو تعمیراتی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا/پرہ

گزشتہ دنوں پلوامہ کے کئی علاقوں میں سرکا رنے سٹیٹ لینڈخالی کرانے او راس اراضی میں دھان کی پنیری لگانے سے گریز کرنے کامشورہ دیا جس پر پلوامہ کے دانگر پورہ اور دوسرے ملحقہ علاقوں کے کسانوں نے زور دار احتجاجی مظاہرے کئے ا ورسرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ آج اس زمین پرقابض نہیں ہوئے یہ اراضی ان کی تحویل میں ہے اور اراضی کی بناءپران کی روزی روٹی چل رہی ہے وہ باضابطہ طور پر محکمہ مال کوآبیانی دیتے ہے اور دیگرٹیکس اد اکرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہے ۔

کسانوں اور انتظامیہ کے درمیان کئی بار اراضی کے اس معاملے پرگفت شنید ہوئی تاہم کوئی بھی حل سامنے نہیں آیا۔

صورتحال نے اس وقت نیاموڑ لے لیاجب پلوامہ حلقے کے ممبراسمبلی وحٰیدالرحمان پرہ بڑی تعداد میں کسانوں کے ساتھ کھیتوں پرنمودار ہوئے انہوں نے کسانوں کے ساتھ مل کرپہلے ٹریکٹرچلایااور پھردھان کی پنیری بھی لگائی۔ انہوں نے ذررائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے قابل کاشت آبی اول کی اراضی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ پلوامہ کے کئی علاقوں میں جس اراضی کی سرکار نے نشاندہی کی ہے وہ صدیوں سے کسانوں کی تحویل میں ہے او راچانک انہیں اراضی سے بے دخل کرانے کی کوششیں کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا ایک طرف سرکار جموںو کشمیرکے لوگوں کوترقی کی منزلوں پرلے جانے ان کے مسائل حل کرنے انہیں روز گا رفراہم کرنے کے دعوے کررہی ہے اوردوسری جانب کسانوں کوروزی روٹی سے محروم کرنے انہیں غیرقانونی کارروائیاں اپنانے ان کے جوان بچوں کومنشیا ت کی طرف دھکیلنے کی منصوبہ بندی کی کوشش ہورہی ہے

Comments are closed.