سرینگر کے پہاڑی علاقوں میں تازہ برف باری، میدانی علاقوں میں بارشیں

وادی کشمیر میں موسم نے ایک بار پھر کروٹ لی ہے اور زبرون اور مہا دیو پہاڑی رینج سمیت سری نگر کے کئی اوپری پہاڑی علاقوں میں تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی ہے۔ بلند علاقوں میں برف کے نئے گالے گرنے سے نہ صرف پورے شہر میں سردی کی لہر دوڑ گئی ہے بلکہ میدانی علاقوں میں درجہ حرارت میں بھی نمایاں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ سرد ہواؤں کے جھونکوں کے ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے بارشوں نے موسم کو مزید خوشگوار بنا دیا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق گزشتہ دو روز سے مغربی ہواؤں کا سلسلہ وادی میں سرگرم ہے جس کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری جبکہ میدانی حصوں میں بارشوں کا امکان پہلے ہی ظاہر کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں تک موسم میں بہتری کے آثار کم ہیں اور سردی کی شدت بدستور جاری رہ سکتی ہے۔

اسی دوران، سری نگر کے کئی مضافاتی علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ پچھلے کئی ہفتوں سے سنگین صورت اختیار کر چکا تھا، تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ تازہ برف باری اور بارشوں نے اس بحران میں کچھ حد تک راحت پہنچائی ہے۔

باکورہ کے رہائشی عبدالرشید میر نے کہا:’گزشتہ دو ہفتوں سے پانی کی شدید کمی تھی، ٹینکر سے پانی لانا پڑتا تھا۔ لیکن پچھلے دو دن کی بارش نے ہمارے گھروں میں پانی کی فراہمی کچھ بہتر کر دی ہے۔ امید ہے کہ اگلے دنوں میں صورتحال مزید بہتر ہوگی۔‘
ہارون کے رہنے والے غلام نبی ڈار نے بھی یہی خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا:’قدرت کی یہ برف باری ہمارے لیے رحمت ثابت ہوئی ہے۔ پچھلے مہینے پانی کے نل تقریباً سوکھ گئے تھے۔ بارش اور پہاڑوں پر برف گرنے سے واٹر سپلائی میں کچھ بہتری آئی ہے، مگر مسئلہ مکمل طور حل نہیں ہوا۔ حکومت کو اس پر مستقل حل نکالنا چاہیے۔‘
ادھرتیل بل کی ایک خاتون ہاجرہ بیگم نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں پانی کی قلت سے سب سے زیادہ مشکلات خواتین کو اٹھانی پڑتی ہیں۔
روزانہ پانی کی کمی سے گھریلو کام کاج سخت متاثر تھا، لیکن اب بارش سے کچھ بہتری آئی ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ موسم اسی طرح مدد کرتا رہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ تازہ برف باری سے سردی بڑھ گئی ہے، مگر پانی کی قلت کے بیچ یہ موسم کسی حد تک راحت لے کر آیا ہے۔

Comments are closed.