کشمیر میں ریل خدمات 4 روز بعد بحال
سری نگر:: وادی کشمیر میں چار دنوں تک معطل رہنے والی ریل خدمات جمعہ کی صبح بحال کردی گئیں۔ یہ خدمات جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں 4 مارچ کی شام پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ میں دو جنگجوو¿ں اور چار عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی طور پر معطل کی گئی تھیں۔
ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ’ہم نے ریل خدمات کو آج چار روز بعد بحال کردیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح کچھ ریل گاڑیاں چلی تھیں، لیکن بعد میں جنوبی کشمیر میں کچھ مقامات پر پتھراو¿ کے واقعات پیش آنے کے بعد ریل خدمات کو ایک بار پھر روک دیا گیا تھا۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ وادی میں جمعہ کے روز سے شمالی کشمیر کے بارہمولہ سے جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل گاڑیاں معمول کے مطابق چلیں گی۔ انہوں نے بتایا ’ہمیں گذشتہ شام ریاستی پولیس کی طرف سے ایک اطلاع موصول ہوئی جس میں ریل خدمات کو بحال کرنے کا مشورہ دیا گیا‘۔
ریلوے کے ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں اور ریلوے املاک کو نقصان سے بچانے کے لئے اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے کا نقصان پہنچایا گیا۔ وادی کشمیر میں گذشتہ برس یعنی سال 2017 کے دوران ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناءپر کم از کم 50 بار جزوی یا کلی طور پر معطل رکھا گیا۔ سال 2016 میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والے شدید احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو قریب چھ مہینوں تک معطل رکھا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ضلع شوپیان کے پہنو نامی گاوں میں 4 مارچ کی شام فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد ریاستی پولیس کو جائے وقوع سے ایک جنگجو اور چار عام شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ فوج نے فائرنگ کے اس واقعہ کے فوراً بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس کا جنگجوو¿ں کے ساتھ ایک مختصر مسلح تصادم ہوا جس کے دوران ایک جنگجو اور جنگجوو¿ں کے تین اعانت کاروں کو ہلاک کیا گیا۔ یو این آئی
Comments are closed.