واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی ،ٹھیکیداروںنے10مارچ سے علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا

سرینگر//واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی کے خلاف ٹھیکیداروںنے10مارچ سے علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے دوسرے مرحلے پر تعمیراتی پروجیکٹوں پر سیاہ پرچم نصب کرنے کا پروگرام دیا۔سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی نے واضح کیا کہ جب تک750کروڑ روپے کی رقم واگزار نہیں کیا جاتا غیر معینہ عرصے کیلئے ہڑتال جاری رہے گا۔

750کروڑ روپے کی رقم سرکار کے پاس واجب الادا اور اس کی واگزاری میں تاخیر کے خلاف تعمیراتی ٹھکیداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے27فروری سے تعمیراتی کاموں اور ٹینڈر نظام کے بائیکاٹ کی کال کے بیچ جنوبی ضلع اسلام آباد میںٹھکیداروں کے ایک احتجاجی جلسے کے بعد نامہ ناگاروں سے بات کرتے ہوئے سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے10مارچ کو سرینگر میں24 گھنٹوں تک بھوک ہڑتال کرنے کی کال دیتے ہوئے کہا کہ وادی کے جنوب و شمال سے تعمیراتی ٹھکیداروں کے نمائندے اس میں شرکت کرینگے۔

انہوں نے التی میٹم دیا کہ دوسرے مرحلے پر تمام تعمیراتی پروجیکٹوں پر سیاہ پرچم نصب کر کے احتجاج درج کیا جائے گا،اور سرکار تک یہ پیغام پہنچایا جائے گا،وہ ٹھکیداروں کو زیر نہیں کرسکتی۔ کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ تاہم احتجاج اسی پر بس نہیں ہوگا،بلکہ دوسرے ذرائع سے بھی احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

فاروق احمد ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ مخلوط سرکار بھی اب سابق حکومت کے نقش قدم پر چلنے لگی ہے جس کی وجہ سے جہاں تعمیراتی معماروں کا قافیہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے وہی وادی میںتعمیر و ترقی کے دروازوں کو بھی مقفل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سرکار کو متنبہ کیا وہ ہوش کے ناخن لئے ورنہ انکا حال بھی سابق حکومت جیسا ہوگا اور انہیں بھی عوام سزا دینے سے گریز نہیں کرے گے۔

انہوں نے آن لائن بلنگ نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹھکیدار اگرچہ اس کے خلاف نہیں ہے،تاہم سرکار کو زمینی صورتحال کا احاطہ کرنا چاہے کہ کشمیر میں یہ نظام قائم رہ سکتا ہے۔ڈار نے کہا”آئے دن کے ای کرفیو کی وجہ سے انٹرنیٹ بند رہتا ہے،جبکہ موسمی صورتحال کی وجہ سے بھی مواصلاتی نظام کارگر نہیں،تواس میں کیا یہ نظام کشمیر میں رائج کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے سرکاری کو فوری طور پر 750کروڑ روپے کی رقم واگزار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 70ہزار ٹھکیداروں سے سرکار مزاحمت کرنے کی حامل نہیں ہوسکتی۔انہوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ ٹھکیداروں کو بائیکاٹ یا ہڑتال کرنے کا شوق نہیں،تاہم انہیں ہڑتال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.