تلہ واری ۔حاجن لنگیٹ کا ڈیڑھ کلومیٹر روڑ ،محکمہ آر اینڈ بی کی ناقص منصوبہ بندی اور نااہلیت کا منہ بولتا ثبوت
متاثرہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی،عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، محکمہ مال اور آر اینڈ بی کے رویے پر سوالیہ نشان
محکمہ روڈز اینڈ بلڈنگ (آر اینڈ بی) کی جانب سے 2018 میں لنگیٹ کے تلواری۔حاجن علاقے میں ڈیڑھ کلو میٹر طویل رابطہ سڑک کا منصوبہ شروع کیا گیا، لیکن یہ پورا منصوبہ نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ مقامی کسانوں کے آئینی و قانونی حقوق پر بھی ایک کھلی چوٹ ہے۔بغیر کسی پیشگی اطلاع، سروے، پیپر ورک یا کسانوں کی رضامندی کے، محکمہ نے اچانک جے سی بی اور بلڈوزر بھیج کر زمین کی کھدائی اور ہمواری شروع کر دی۔ مقامی لوگ اس اچانک کارروائی پر حیرت زدہ رہ گئے۔ احتجاج کیا گیا، آواز بلند کی گئی، لیکن انتظامیہ نے مکمل طور پر بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ زمین مالکان سے نہ بات چیت ہوئی، نہ انہیں کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی زمین کا کوئی معاوضہ طے پایا۔متاثرہ کسانوں نے آخرکار عدالت عالیہ سے رجوع کیا، جہاں عدالت نے واضح احکامات جاری کئے کہ متاثرہ زمین مالکان کو معقول معاوضہ فراہم کیا جائے۔
2019 میں اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ہندوارہ نے معاوضہ دینے کی بات تو کی، مگر اس میں بھی نئے اراضی قوانین کے تحت لازمی چار گنا اضافے کو تسلیم نہ کیا گیا، جس کے باعث معاملہ دوبارہ عدالت پہنچا۔ عدالت نے ایک بار پھر متاثرین کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ انہیں مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق معاوضہ فراہم کیا جائے۔تاہم، حیرت کی بات یہ ہے کہ عدالت کے دو بار واضح احکامات صادر ہونے کے باوجود، محکمہ مال اور آر اینڈ بی کے افسران ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ متاثرہ کسانوں کو اب تک انصاف نہیں ملا۔ سڑک آج بھی ادھوری پڑی ہے، اور مقامی لوگوں کی زمین پر ناجائز قبضہ برقرار ہے۔مزید حیرت اس بات پر ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ایک کسان کے نام پر 19.70 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی، لیکن اس وقت کے متعلقہ اے ڈی سی نے وہ رقم بھی ریلیز کرنے سے انکار کر دیا۔ آخر وہ رقم کہاں گئی؟ کس بنیاد پر روک لی گئی؟ اس پر کوئی جواب دینے کو تیار نہیں۔اس پوری صورتحال سے تحصیل اور ضلع انتظامیہ کی سنجیدگی پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
کیا سرکاری محکمے عدالتی احکامات کو خاطر میں نہیں لاتے؟۔کیا زمین مالکان کی زمین ہتھیانا ایک معمولی بات بن گئی ہے؟اور کیا ایسے افسران کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی جو کھلے عام عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟متاثرہ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ اس غیر قانونی کارروائی میں ملوث تمام افسران کا احتساب کیا جائے، معاوضہ فوری طور پر نئے قوانین کے تحت فراہم کیا جائے، اور ریاستی حکومت اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کروا کر زمین مالکان کو انصاف فراہم کرے۔
اگر ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کی گئی تو اس سے نہ صرف عوام کا نظام عدل سے اعتماد اٹھ جائے گا بلکہ سرکاری اداروں کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوگی۔
Comments are closed.