لیفٹنٹ گورنر نے سرینگر میں دہشت گردی کے متاثرین کے 158قریبی رشتہ داروں کو تقرر نامے سونپے
سری نگر/05 اگست
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوںمارے گئے کشمیری شہریوں کے 158 قریبی رشتہ داروںکو تقرری نامے حوالے کئے۔
دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ نے اپنے دردناک تجربات بیان کئے اور ان مظالم کو بے نقاب کیا جو پاکستان کی سرپرستی کرنے والے دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں نے ان کے کنبوں پر ڈھائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عام شہری شہدا¿ کو دلی خراجِ عقیدت پیش کیا اور اُن کنبوں کے حوصلے اورہمت کو سلام پیش کیا جنہوں نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا کیا۔
ٍ اُنہوں نے کہا،”جو زخم دہائیوں سے چلے آ رہے تھے، اب بھرنے لگے ہیں۔ آج کا یہ تاریخی دن اُن کنبوں کو کسی حد تک سکون دیا ہے جو برسوں سے خاموشی سے صدمے کا شکار ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”زائد اَز تین دہائیوں سے پاکستان جو ایک دہشت گرد ریاست ہے، اپنے پراکسی دہشت گرد گروہوں کے ذریعے معصوم خون بہا رہا ہے۔ وقت نے نقصان کا درد نہیں مٹا دیا۔ ان کے دِلوںپر لگے نظر نہ آنے والے زخم محسوس کئے جا سکتے ہیں اور خاموش آنکھیں ان ادھورے خوابوں کی گواہ ہیں۔“
اُنہوںنے کہا کہ اِنصاف اور شفا یابی کا طویل اِنتظار ختم ہو گیا ہے ۔ اُنہوں نے پاکستان کے دہشت گردوں اور جموں کشمیر میں سرگرم دہشت گردانہ نظام کو بے نقاب کرنے والے ان کنبوںکے حوصلے کی تعریف کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عبدالمجید میر کے کنبے کی المناک داستان کا اشتراک بھی کیا جنہیں 29 جون 2004 کو دہشت گردوں نے شیخ پورہ بارہمولہ سے اِغوا کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔
اُنہوں نے کہا،”عبدالمجید کاکنبہ اپنا واحد کفیل کھو بیٹھا اور ایس آر اِی سکیم کے تحت صرف ایک لاکھ روپے کی ایکس گریشیا اِمداد ملی۔ آج ان کے بیٹے مدثر مجید کو سرکاری ملازمت دے کر حکومت نے اپنی دیرینہ ذمہ داری پوری کی ہے۔“
سہیل مجید کو بھی 31 سال بعد انصاف ملا جن کے والد عبدالمجید وانی کو 30 اگست 1994 ءکو دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔خورشید احمدراتھر کو بھی تقرری نامہ ملا جن کے والد منظور احمد راتھر 24 فروری 2000 ءکو شہید ہوئے تھے۔پرویز احمد ڈار کی داستان بھی بیان کی گئی جن کے والد غلام قادر ڈار کو 6 جولائی 1996 ءاور بھائی اعجاز احمد ڈار کو 30 جولائی 2004 ءکو دہشت گردوں نے قتل کیا۔ آج 29 سال بعد پرویز کو اِنصاف ملا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”ہم جانتے ہیں کہ مالی اِمداد یا نوکریاں ان کنبوں کے دُکھ کا مداوا نہیں کر سکتیںلیکن ہم یہ ضرور یقینی بنائیں گے کہ وہ عزت کے ساتھ زِندگی گزار سکیں۔“
اُنہوں نے مزید کہا،”ہم دہشت گردی کے متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ان درندہ صفت دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کو مثالی سزا دی جائے گی۔ میں اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک ہر متاثرہ کنبے کو اِنصاف نہیں مل جاتا۔“
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،”5 اگست 2019 ءکو ایک نیا جموں و کشمیر وجود میں آیا۔ ایسا جموں و کشمیر جہاں تمام شہری برابر ہیں، جہاں سات دہائیوں سے جاری امتیاز کا خاتمہ ہوا۔اِس موقعہ پر اُنہوں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر کے نئے دور پر بھی بات کی۔
اُنہوں نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ’نیا جموں و کشمیر‘ کیا ہے؟ میں کہتا ہوں یہ وہ خطہ ہے جہاں نوکریاں دہشت گردوں کو نہیں بلکہ حقیقی شہدا¿ کے وارثین کو دی جاتی ہیں۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں دہشت گردوں کی موت پر آنسو نہیں بہائے جاتے بلکہ عام کشمیریوں کے آنسو پونچھے جاتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،”یہ نیا جموں و کشمیر وہ ہے جہاں حکومت کے نظام میں بیٹھے دہشت گرد عناصر کو ایک ایک کر کے نکالا جا رہا ہے اور متاثرہ کنبوں کے زخموں پر مرہم رکھا جا رہا ہے۔ یہ وہ جموں و کشمیر ہے جہاں عام کشمیریوں کو گلے لگایا جا رہا ہے نہ کہ علیحدگی پسندوں کو۔ نیا جموں کشمیر ایسا ہے جہاں بچوں کے ہاتھ میں قلم ہے نہ کہ پتھر۔“
اُنہوں نے معاشرے کے ہر طبقے سے دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
اُنہوں نے کہا،” وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک نئی لکیر کھینچ دی ہے۔ اب دہشت گردوں اور اُن کے سرپرستوں کو یکساں سزا دی جائے گی۔ اگر کسی ملک کی پالیسی دہشت گردی ہے، تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،”امن ترقی کے لئے ایک لازمی شرط ہے۔ مہذب معاشرے میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں۔ جموں و کشمیر کی کئی نسلیں ہمسایہ ملک کی پیدا کردہ دہشت گردی کا شکار ہو چکی ہیں۔ اب ہر فرد کو عہد کرنا ہو گا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔“
اُنہوں نے ان تمام اِنتظامی اور پولیس اَفسران کی بھی سراہنا کی جنہوں نے متاثرہ کنبوں کے مسائل کو خلوص اور سنجیدگی سے حل کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ 13 جولائی کو بارہمولہ اور 28 جولائی کو جموں میں ہونے والے تاریخی اقدامات کے بعد آج کا یہ دن ایک اور سنگِ میل ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر کی انتظامیہ دہشت گردی کے متاثرین کو اِنصاف دِلانے کے لئے پُرعزم ہے۔آج 158 شہدا¿ کے قریبی رشتہ داروں کو تقرری نامے دئیے گئے اور باقی افراد کو ان کے ضلع ہیڈ کوارٹروں میں جلد تقرری نامے دئیے جائیں گے۔ یہ عمل جاری رہے گاجب تک ہر حقیقی کیس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
جموں و کشمیر ِانتظامیہ نے اِس پورے عمل کو مو¿ثر بنانے کے لئے ایک ویب پورٹل تیار کیا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد مدد، ہمدردانہ تقرریاں اور دیگر امداد فراہم کی جا سکے۔ ضلع اور ڈویژن سطح پر ہیلپ لائنز بھی قائم کی گئی ہیں۔
اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ڈی جی پی نلین پربھات، پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی ایم راجو، صوبائی کمشنر کشمیر وِجے کمار بدھوری، آئی جی پی کشمیر وی کے بردی،ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اکشے لابرو، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی سمیت سینئر انتظامی و پولیس افسران اور شہدا¿کے اہل خانہ موجود تھے۔
Comments are closed.