لشکر کمانڈر ابو حنظلہ کے ڈرامائی فرار کا معاملہ،مرکز نے سنجیدہ نوٹس لیا

ریاستی پولیس کو جیلوں کی سیکورٹی مزید سخت کرنے کےلئے6 طویل اور 23قلیل مدتی اقدامات اٹھانے کی صلاح دی

سرینگرمرکزی وزارت داخلہ نے لشکر کمانڈر ابو حنظلہ کے ڈرامائی فرار کا انتہائی سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ریاستی پولیس کو جیلوں کی سیکورٹی مزید سخت کرنے کےلئے6 طویل اور 23قلیل مدتی اقدامات اٹھانے کی صلاح دی ہے جن میں سینٹرل جیل سرینگر کو شہر کے مضافات میں منتقل کرنا، مقامی اور غیر مقامی قیدیوں کو علیحدہ رکھنا، پاکستانی قیدیوں کیلئے جیلوں کے اندر خصوصی عدالتوں کا قیام،مقدمات کی شنوائی کےلئے ای کورٹس اور ویڈیو کانفرنسنگ کا انتظام،قیدیوں کی منتقلی کےلئے بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی، سیکورٹی فورسز سمیت سٹاف ممبران اور عام لوگوں کی سخت جامہ تلاشی ، ان پر موبائیل فون کے استعمال پر پابندی اورجیلوں میں متواتر تلاشی کارروائی قابل ذکر ہیں۔

رواں ماہ کی 6تاریخ کو سرینگر کے صدر اسپتال میں پولیس کی ایک پارٹی پر فائرنگ کی گئی جو سینٹرل جیل سے کئی قیدیوں کو میڈیکل چیک اَپ کےلئے اسپتال لے کر آئے تھے۔اس واقعہ میں پولیس کے دو اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ حملہ کرنے والے جنگجوﺅں کے ساتھ ساتھ لشکر طیبہ کا ایک زیر حراست کمانڈرنوید جٹ عرف ابو حنظلہ فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوگیا۔اس سنسنی خیز واردات نے قیدیوں کےلئے حفاظتی انتظامات پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے اور اس کا نہ صرف ریاست کے حفاظتی اداروں بلکہ مرکزی وزارت داخلہ نے بھی انتہائی سنجیدہ نوٹس لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے فوراً بعد وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران کی خصوصی میٹنگ نئی دلی میں منعقد ہوئی جس میں ابو حنظلہ کے فرار ہونے کے تناظر میںجموں کشمیر بالخصوص وادی کی جیلوں اور قیدیوں کےلئے سخت حفاظتی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ اس ضمن میں مرکزی داخلہ سیکریٹری راجیو گوبا نے 13فروری کو ذاتی طور پر ایک سرکاری مراسلہ ریاستی حکومت کو ارسال کیا جس میں جیلوں کی سیکورٹی بڑھانے کےلئے6طویل مدتی اور23قلیل مدتی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے اس مقصد کےلئے جو طویل المدتی اقدامات تجویز کئے ہیں، ان میں جیل احاطے کے اندر سٹاف کوارٹرس کی تعمیر،ای کورٹس کا قیام، ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مقدمات کی شنوائی اور پاکستانی قیدیوں کے معاملات کی تیز رفتار سماعت کےلئے جیلوں کے اندر خصوصی عدالتوں کا قیام قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ مرکزی وزارت داخلہ نے سینٹرل جیل سرینگر کو گنجان علاقے سے شہر کے مضافات میں منتقل کرنے اور قیدیوں کو اِدھر اُدھر لیجانے کےلئے بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی کی سفارش بھی کی ہے۔

ذرائع نے کے ایم ا ین کو بتایا کہ اس حوالے سے کئی قلیل مدتی اقدامات کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جن میں”کراس فرسکنگ“کے تحت سی آر پی ایف، جموں کشمیر پولیس اور جیل اسٹاف سے وابستہ اہلکاروں کی موجودگی میںقیدیوں سے ملنے آنے والے ان کے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی بھی جامہ تلاشی لینا سر فہرست ہے۔ اسی طرح سیکورٹی فورسز جیل سٹاف کی جامہ تلاشی بھی عمل میں لائیں گی۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے اس بات کی سفارش بھی کی ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جیلوں کے اندر متواتر طور چھاپے ڈالے جائیں اور تلاشی کارروائی عمل میں لاکر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جنگجو اور علیحدگی پسند عناصر آپس میں ساز باز نہ کرسکیں۔

ریاستی حکومت کو اس بات کی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایسے عدالتی احکامات پر سرعت کے ساتھ کارروائی عمل میں لائیںجو قیدیوں کو ٹرائل کورٹس کے نزدیکی علاقوں میں نظر بند رکھنے کے بارے میں ہیں۔ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے جیلوں کےلئے تجویز کئے گئے دیگر حفاظتی اقدامات میں جیل اسٹاف اور جیل کا دورہ کرنے والے قیدیوں کے رشتہ داروں پر موبائیل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ اوقات ملاقات محدود کرنا خواتین و مردوں کےلئے جیل میں الگ الگ داخلہ اور قیدیوں کےلئے میس کا موثرنظام بھی شامل ہے تاکہ قیدیوں کو انفرادی سطح پر کھانا پکانے کی اجازت نہ دی جائے۔

وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ نوید جٹ کے فرار ہونے سے قبل ہی مرکزی وزارت داخلہ اور ریاستی سرکار جیلوں کی حفاظت مزید سخت کرنے کے حوالے سے بات چیت کررہے تھے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ حکومت کو سینٹرل جیل سرینگر کے اندر مبینہ علیحدگی پسند سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات موصول ہورہی تھیں۔مذکورہ آفیسر نے بتایا”یہاں قیدیوں کا نہیں بلکہ جیلوں کی مجموعی سیکورٹی کا مسئلہ ہے ، خاص طور پر جیل کا دورہ کرنے والے لوگوں کا!نئے اقدامات سے ناخوشگوار سرگرمیوں پر روک لگائی جاسکے گی “۔انہوں نے کہا ” 25جنگجو ایسے ہیں جنہیں وادی سے باہر منتقل کرنا ضروری ہے اور ان میں سے بیشتر کو پہلے ہی منتقل کیا جاچکا ہے ،باقی ماندہ اقدامات کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا“۔

Comments are closed.