سرحدی کشیدگی کے باوجود سری نگر مظفرآباد کاروان امن بس سروس جاری

سری نگر، 26 فروری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں بالخصوص شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جاری کشیدگی کے باوجود گرمائی دارالحکومت سری نگر اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار ’کاروان امن‘ بس کے ذریعے 2 نئے مہمان پیر کو یہاں آپہنچے ۔ یہاں سے 7 کشمیری سرحد کے اُس پار اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ قیام کی مدت ختم ہونے کے بعد کاروان امن بس کے ذریعے6 افراد لائن آف کنٹرول کے آرپار اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے 2رہائشی بشمول ایک خاتون پیر کے روز ’امن برج‘ پیدل عبور کرکے کمان پوسٹ پر پہنچے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پانچ کشمیری بشمول دو خواتین جو گذشتہ ہفتے سرحد کے اُس پار اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے ہوئے تھے، بھی واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ بس سے 7 کشمیری بشمول دو خواتین سرحد کے اُس پار روانہ ہوئے۔ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا ایک رہائشی جو گذشتہ ہفتے یہاں آیا تھا، اپنے گھر کو لوٹ گیا ہے۔ واضح رہے کہ اوڑی میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی ایل او سی پر گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کشیدگی دیکھی گئی جس کے دوران پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک، تین عام شہری زخمی اور متعدد رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا۔ سرحدی پر کشیدگی کے پیش نظر 500 افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔ سنہ1999 ءمیں کرگل کی جنگ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر شروع کی گئی کاروان امن بس سروس وادی میں سال 2008 ئ، 2010 ءاور 2016 ءکی طویل احتجاجی تحاریکوں اور لائن آف کنٹرول و بین الاقوامی سرحد پر کشیدگی کے باوجود جاری رہی۔ کاروان امن بس کا آغاز 7 اپریل 2005 کو ہوا تھا اور تب سے اِس کے ذریعے ہزاروں لوگ آرپار اپنے عزیز واقارب سے ملے ہیں۔ یو اےن آئی

Comments are closed.