مسئلہ کشمیر کا آبرومندانہ حل تلاش کرنے کی ضرورت:گیلانی
سرینگر:چیرمین حریت ”گ“ سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل تلاش کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ وجدل، قتل وغارت، ظلم وتشدد اور قیدوبند کی جابرانہ کارروائیوں سے قیمتی انسانی زندگیوں اور املاک کے زیاں کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
موصولہ بیان میں حریت چیرمین نے مسئلہ کشمیر کو ایک زندہ حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے باشندے روئے زمین پر بسنے والے مہذب اور ترقی یافتہ اقوام ہی کی طرح ایک انسانی مخلوق ہے جو اپنے جملہ انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ حقِ خودارادیت کا مطالبہ پچھلے 70برسوں سے کرتے آئے ہیں۔ حریت راہنما نے بھارت میں قیدیوں کے حقوق پامال کرنے پر اپنی گہری تشویش کااظہار ہوئے کہا کہ بھارت کے قابض فوجی اور سول انتظامیہ کی طرف سے اپنے جائز سیاسی حقوق کی بازیابی کے لیے پُرامن جدوجہدکرنے والے سیاسی راہنماو¿ں اور کارکنوں کو بے بنیاد اور فرضی الزامات کے تحت جیل خانوں میں مقید کیا جارہا ہے، ریاست جموں کشمیر اور اس سے باہر بھارت کے جیل خانوںبالخصوص تہاڑ، جودھپور، کولکتہ اور دیگر جیل خانوں میں محبوسین کے رشتہ داروں نے ان نظربندوں کے ساتھ جیل حکام کی طرف سے تعصب پر مبنی انتقام گیر پالیسی روا رکھے جانے اور ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرنے کے حوالے سے جو تفاصیل موصول ہوئی ہیں وہ انتہائی تشویشناک صورتحال کا غماز ہے۔
حریت چیرمین نے ان تفاصیل کی روشنی میں کہا کہ ان جیل خانوں میں نظربند حضرات کو آئے روز تلاشی کے نام پر خاصا تنگ کیا جارہا ہے، کھانے پینے کے غیر معیاری اقسام اور حفظان صحت کے مطابق ناموافق اشیاءخوردنی پر گزارہ کرنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔علاج ومعالجے کے فقدان پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حریت چیرمین نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں سے جیل کی غفلت شعاری کی وجہ سے ان محبوسین کی زندگی کو خطرہ لاحق سے بچانے کی مودبانہ اپیل کی ہے۔
حریت راہنما نے کہا کہ تہاڑ جیل میں مقید شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، ایاز اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، شاہدالاسلام، کامران یوسف، جاوید احمد، محمد اسلم وانی اور ظہور احمد وٹالی، مظفر احمد ڈار وغیرہ ایسے امراض میں مبتلا ہیں جن کی جانچ کرنے یا اوپریشن کرنے کی بے حد ضرورت ہے، لیکن جیل حکام اپنے ہی ڈاکٹروں کی طرف سے حاصل ہونے والی ہدایات پر عمل نہ کرتے ہوئے ان قیدیوں کی قیمتی جانوں سے کھلواڑ کرنے کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔
بھیجے گئے بیان میں گیلانی نے کہا کہ مختلف امراض کی جانچ کرنا تو درکنار دوائی کی معمولی ٹکیوںکے لیے بھی محبوسین کو تڑپایا جاتا ہے۔ حریت راہنما نے کہا کہ بعض محبوسین کو مختلف جان لیوا بیماریوں سے نجات دلانے کے لیے انہیں فوری آپریشن کی ضرورت ہے، لیکن جیل حکام جان بوجھ کر ان محبوسین کو اذیتیں دینے میں راحت محسوس کرتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہی حال بھارت کے دیگر جیل خانوں میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کا ہے۔ حریت راہنما نے جیل حکام کی طرف سے کشمیری محبوسین کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے جانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان قیدیوں کو کوئی گزند پہنچی اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت کے ارباب اقتدار پر عائد ہوگی۔
حریت چیرمین نے بھارت کے ارباب اقتدار کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے غیر حقیقت پسندانہ اپروچ اپنانے اور جبرواستبداد کے ذریعے حریت پسند قیادت اور قوم کو زیر کرنے کی اپنی طفل تسلیوں سے اوپر اُٹھ کر مسئلہ کشمیر کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ جبرواکراہ سے بھارت کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی کشمیری قوم یا قیادت بھارت کی فوجی طاقت سے مرعوب ہوسکتی ہے، جیل کی تاریکیوں میں جان بوجھ کر اور انسانیت سوز طرزِ عمل اختیار کرکے طول دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہد یوسف نے 5فروری کو ضمانتی درخواست داخل کی، لیکن جج صاحبہ نے 7مارچ کی تاریخ دیکر ظلم وجبر کا رویہ اختیار کیا، یہی طرزِ عمل سب قیدیوں کے ساتھ روا رکھ کر انسانیت اور عدل وانصاف کو تاراج کیا جارہا ہے۔
Comments are closed.