سرینگر/03ستمبر: کورنا وائرس کی وبائی بیماری میںبھی ہند پاک کے مابین کشیدگی کے چلتے سرحدوں پر بھی تنائو کا ماحول بدستور جاری ہے ۔ بدھ کی شام ایک مرتبہ پھر پونچھ سیکٹر میں ہند پاک افواج کے مابین آمنا سامنا ہوا جس دوران دونوں ممالک کے افواج نے ایک دوسرے کی کو نشانہ بنا کر فائرنگ اور شلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی ہائشی مکانوں کو نقصان ہو گیا ۔ادھر سرحدی آباد سماعت شکن دھماکوں کی آوازوں سے خوفزدہ ہوگئیں ۔دفاعی ترجمان نے ایک بار پھر پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہندوپاک سرحدوں پر کشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو ایک مرتبہ پھر سرحدوںپر کشیدگی کا ماحول دیکھنے کو ملا ۔حکام نے بتایا کہ بدھ کی شام دیر گئے جنگ بندی معاہدے کیخلاف ورزی کرتے ہوئے پونچھ میں رینجرس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف ) ہلکاروں نے پاکستانی رینجرس کی فائرنگ کا ’’موثر‘‘ جواب دیا۔حکام کے مطابق کراس فائرنگ کا یہ واقعہ کچھ گھنٹو ں تک جاری رہا ۔ اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں جانب جدید جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے سماعت شکن آوازوں کی وجہ سے سرحدی آبادی میں سخت خوف و دہشت پھیل گئی اور لوگ محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ سال رواں کے دوران اب تک بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر طرفین کے مابین گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے زائد از دو ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔طرفین کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے اور گذشتہ کچھ ماہ سے جاری کورونا وبا کے با وصف بھی سرحدیں لگاتار گرم ہیں جس سے آر پار کی سرحدی بستیوں کے لوگوں کا جینا مزید مشکل بن گیا ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.