سرحد پار دراندازی کشمیر میں امن کیلئے بڑا خطرہ, فی الوقت پاکستان کیساتھ مذاکرات ممکن نہیں<
 پڑوسی ملک کی سرزمین سے مسلح جنگجو بھارت میں داخل ہورہے ہیں، مرکزی سرکار کی صورتحال پر گہری نگاہ/راجناتھ سنگھ 

سرینگر ؍یکم دسمبر؍ الفا نیوز سروس ؍
 دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بھارت سمیت پوری دنیا کیلئے چلینج قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سرحد پار کی دراندازی کشمیر میں امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور پاکستان ابھی بھی اپنی سرزمین کو بھارت مخالف دہشت گردی کیلئے استعمال کررہا ہے جس کی وجہ سے اسی سر زمین سے ہتھیار بند جنگجو بھارت میں داخل ہو کر بے گناہ کا خود بہا رہے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی اعانت کرنے والے ممالک کیخلاف کاروائی کرنی چاہئے ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق روس کے دورے کے دوران مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ روس بھارت کا ایک دیرینہ دوست ملک رہا ہے اور اس کیساتھ قریبی رشتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ روس بھی دہشت گردی کیخلاف بھارت کا موقف رکھتا ہے اور ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونے پر اتفاق ہو گیا ہے ۔ راج ناتھ سنگھ کا کہناتھا کہ بھارت برسہا برس سے دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور یہ دہشت گردی اس کے ملک میں منتقل ہورہی ہے ۔انہوںنے پڑوسی ملک پاکستان کانام لیتے ہوئے کہاکہ سرحد پار سے ہتھیار بندجنگجو تیار ہوتے ہیں اور پھر وہ بھارت میں داخل ہوجاتے ہیں جس کے بعد بے گناہوںکا خون بہایا جارہا ہے ۔انہوںنے ممبئی اور دیگر دہشت گردانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوںمیں کچھ لوگ زندہ پکڑے گئے اور کچھ ایک ہلاک ہوگئے لیکن ان حملوں کی رابطے سرحد پار سے جڑی دیکھی گئیں ۔ایسے میںانہوںنے واضح کر دیا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی دنیا بھر کیلئے بڑا چلینج ہے جبکہ سرحد پار کی دراندازی کشمیر سمیت پورے بھارت میں امن کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ پڑوسی ملک سے اب بھی ہتھیار بند جنگجو آتے ہیں اور کشمیر سمیت پورے بھارت کے اندر دہشت گردی کرتے ہیںجس کی وجہ سے امن خراب ہوجاتا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پھیل رہی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بھارت بھی متاثر ہورہا ہے تاہم یہ صحیح ہے کہ ہماری فوج کسی بھی طرح کے چلینج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے ۔الفا نیو ز سروس کے مطابق انہوںنے کہاکہ بھارت اپنی سر زمین پر دہشت گردی کو پنپنے نہیں دیگا اور نہ ہی ہم پڑوسی ملک کی جانب سے درپردہ جنگ کو جاری رکھنے دیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ پڑوسی ملک کی درپردہ جنگ آخری سانسیں لے رہی ہیں اور کشمیر کے اندر بھی امن کا ماحول قائم کرنے کیلئے کوششیں تیز کی گئی ہیں کیونکہ کشمیری عوام امن کے حق میں ہیں اور خون خرابے سے تنگ آگئے ہیں۔انہوںنے مزید کہا کہ مرکز میں بھاجپا کی حکومت کسی بھی اعتبار سے ملکی سلامتی پر سمجھوتے کیلئے تیار نہیں ہے تاہم انہوںنے کہا کہ دنیا بھر میں آئی ایس آئی ایس کا خوف ضرور ہے لیکن بھارت کی سرحدوںتک ان کو پہنچنے نہیں دیاجائیگا کیونکہ فوج اور سیکورٹی ایجنسیاں پورے تال میل کیساتھ ملک کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔ انہوںنے خبردار کیا کہ جب بھی امن کو خطرہ درپیش ہوگا بھارت اپنی سیکورٹی فورسز اور فوج کو ہر معاملے میں ہمہ وقت پاتا ہے ۔پڑوسی ملک کو دہشت گردی کا راستہ ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ امن کی باتیں تشدد کے ماحول میں نہیں ہوسکتی ہیں لہذا اگر حقیقی معنوں میںامن کی بات کرنی ہے تو پھر ہم تشدد کو خیر باد کہنا ہی ہوگا جس کے بعد ایک مناسب ماحول تیار ہوجاتا ہے اور بعد میں مذاکرات نتیجہ خیز بن جاتے ہیں ۔ دہشت گردی کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ دہشت گردی کوفروغ دینے والے ممالک کیخلاف کاروائی عمل میںلائی جانی چاہئے ۔مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کاکہنا تھا کہ روس نے بھی بھارت کے دہشت گردی کے شکار ہونے کااعتراف کیا ہے اور ایسے میں انہوںنے مزید کہاکہ روس کو بھی اس بات پر قائل کیا گیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار دراندازی روکنے کیلئے روس بھی اپنا اثر ورسوخ قائم کرے جس پر روس نے اتفاق کیا ہے کیونکہ روس بھارت کا ایک دیرینہ ساتھی ملک رہا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ پاکستان بار بار سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور پچھلے ایک مہینے میں کئی بار سیز فائر کی خلاف ورزی کر چکا ہے جبکہ محض تین روز کے اندر گولہ باری کے تین واقعات رونما ہوئے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان ہمسائیہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے حق میں ہے اور پاکستان بار ہار بھارت کی کوشش کونظر انداز کرتا رہا ہے تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی گولہ باری کی وجہ سے بھارت کے ا س پار سینکڑوں کی تعداد میں لو گ متاثر ہو رہے ہیںاور ایک انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ حالات چاہئے کچھ بھی ہوں گولہ باری کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور ایسا کرار ا جواب دیا جارہا ہے کہ پاکستان کے اس پار والے حصے میں بھی کافی سارا جانی نقصان ہوجاتا ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے کہا کہ بھاجپا حکومت ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کام کررہی ہے اور فوج کو ایسی ہدایات دی گئی ہے کہ سرحد پار ایسی کاروائی عمل میںلائی جائے کہ دشمن کے ہوش اڑ جائیں اور وہ گولہ باری کرنے کی پوزیشن میں ہی نہ رہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت پڑوسی ملک پاکستان کیساتھ بہتر رشتوں کاخواہاں ہے اور اس کیلئے وزیراعظم نریندر مودی نے پہلے ہی روز اپنے طرف سے آغاز بھی کیا ہے لیکن سرحد پار بیٹھا ہمارا پڑوسی ہر بار ہمیں دھوکہ دیتا رہا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

Comments are closed.