موسم سرما کی سخت سردی سے لوگ پریشان 
سخت بجلی کٹوتی شیڈول لاگو، پانی کی عدم دستیابی اورغذائی اجناس کے حصول میں دشواریاں

سرینگر؍25نومبر/ سی این ایس

وادی کے بازاروں میں صارفین کو دودوہاتھوں سے لوٹنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ سی این ایس کے مطابق دربار موکے تحت سول سیکریٹریٹ کے دفاتر سرمائی راجدھانی جموں منتقل ہونے کے ساتھ ہی سرینگر اور وادی کے دوسرے تمام علاقوں میں عوام بنیادی سہولیات سے دو چار ہو چکے ہیں کیونکہ جہاں سردی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی محکمہ بجلی نے سخت کٹوتی شیڈول لاگوکر دیا ہے وہیںبجلی اور پانی کی عدم دستیابی کے بعد اہل وادی کو روزمرہ غذائی اجناس کے حصول میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ قصابوں کے بے حساب ہونے کے بعد اب سبزی فروش ، مرغ فروش ، دودھ فروش اور انڈے وغیرہ فروخت کرنے والے دکانداربھی بے لگام ہو چکے ہیں ۔ شہر سرینگر کے مختلف علاقوں سمیت وادی کے دیگر بازاروں سے مرغ فروشوں کی من مانیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔صارفین کے مطابق محکمہ امور صارفین کی جانب سے وضع کئے گئے نرخ نامے مرغ فروشوں نے اپنی دکانوں پرآویزان تو رکھے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا ہے ۔ بازاروں میں سبزی فروشوں ،،قصابوں ،مرغ ،میوہ ، اوردودھ فروشوں ، غذائی اجناس کے علاوہ اشیایہ ضروریہ رفروخت کرنے والے افراد نے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے نرخ ناموں کو بالائے طاق رکھ کر از خود تمام اشیائے ضروریہ کے دام مقرر کر لئے ہیں۔ ناجائزمنافع خوروں اورذخیرہ اندوزوں عام شہریوں کو اضافی داموں سبزیاں اور دیگر ضروریات فروخت کرکے انکو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔عوامی حلقوںنے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شہر سرینگر کے تمام علاقوں میں دکانداروں نے گذ شتہ ایک مہینے سے سبزیوں کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ،سبزی کیلئے اگرچہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے محکمے نے قیمتیں مقرر کر لی ہیں لیکن محکمہ کی طرف مشتہر شدہ سبز یو ں کے ریٹ لسٹ خاطر میں نہیں لائے جاتے ہیںجس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں زبردست تشویش لاحق ہو رہی ہے۔سی این ایس نمائندوں کے مطابق غریب اور متوسط کنبوں کیلئے سبزیوں کا حصول بھی کارے دارد والا معاملہ بن چکا ہے کیونکہ بازاروں میں فروخت ہونے والی سبزیوں کی اوسط قیمت کم از کم 55روپے تک پہنچ چکی ہے ۔سبزی فروشوں کی طرف سے من مانی قیمتیں مقرر کئے جانے کے بارے میں جانکار لوگوں نے بتایا کہ وادی میں شہر و دیہات کے بازاروں میں پیاز ، ٹماٹر ، فراش بین ،مٹر اور شملہ مرچ کی اوسط فی کلو قیمت کم از کم 60روپے رکھی گئی ہے جبکہ آلوفی کلو کم از کم 50تا65روپے کے حساب سے فروخت کئے جا رہے ہیں ۔اس دوران لوگوں کا الزام ہے کہ قیمتیں اعتدال پر رکھنے کے سلسلے میں محکمہ امور صارفین عملی اقدامات اٹھانے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے اور لوگوں کو اس بات پر سخت ناراضگی ہے کہ متعلقہ محکمہ کے کی کار کردگی غیر تسلی بخش رہی ہے ۔ڈائریکٹر امور صارفین پر عام لوگوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے عوامی وفود نے سی این ایس کو بتایا کہ مذکورہ محکمہ میں قیمتیں اعتدال پر رکھنے ، غذائی اجناس کے معیار پر نظر گزر رکھنے اور من مانیوں کے مرتکب دکانداروں کی لگام کسنے کیلئے انفورسمنٹ ونگ تو موجود ہے لیکن مذکورہ ونگ یا شعبہ کے افسر عیدکے مواقع پر ہی بازاروں میں نمودار ہو جاتے ہیں

Comments are closed.