کشمیر حل کیلئے عالمی برادری کی ثالثی نا گزیر
بھارت کیساتھ طویل یا مختصر جنگ ،کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار

 
سرینگر؍25نومبر؍ الفا نیوز سروس ؍مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری کی ثالثی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے پاکستان نے آج مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجا جائے تاکہ اصل صورتحال کا پتہ لگایا جاسکے ۔تاہم پاکستانی فوج نے آج بھارت کو خبردار کیا ہے کہ جنگ مختصر ہو یا طویل اگر پاکستان پر مسلط کی گئی تو بھارت کو بھاری قیمت چکانا پڑیگی ۔ اس دوران پاکستان نے امریکی فوجی جنرل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی طور پر دہشت گردوں کیلئے جنت نہیں ہے بلکہ دہشت گردوں کا صفایا پاکستانی فوج اور حکومت کی ترجیح ہے ۔ الفا نیوز سروس کے مطابق پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کی اصل صورتحال کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کررہا ہے اور یہ کہ بھارت کشمیر میںجاری ظلم کو عالمی نظروں سے بچانے کیلئے کنٹرول لائن پر جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور کنٹرول لائن پر فائرنگ اور گولہ باری میں پہل بھارت کی جانب سے ہو رہی ہے ۔پاکستانی وزیر دفاع نے مزید کہاکہ پاکستان نےدہشت گردوں کے ساتھ آئی ایس آئی کے رابطے کے حوالے سے امریکی جنرل کے بیان کو مسترد کیا ہے کیونکہ جنرل ڈن فورڈ کا بیان بے بنیاد ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مسلسل ایل او سی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارتی خلاف ورزیوں سے خطے کا امن خطرے میں پڑسکتا ہے، بھارتی فائرنگ سے اب تک ٤٥ پاکستانی شہری شہید اور١٥٥ زخمی ہوئے جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا مطالبہ کیا۔الفا نیوز سروس کے مطابق وزیر دفاع نے یل او سی پر فائرنگ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت ہی ہے جو ہمیشہ فائرنگ میں پہل کرتا ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو ایل او سی کی صورتحال مانیٹر کرنے کا مینڈیٹ دے رکھا ہے، جب بھی بھارت ایل او سی پر خلاف ورزی کرتا ہے مبصر مشن کو آگاہ کرتے ہیں تاہم بھارت مبصر مشن کو تحقیقات کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا، بھارت پاکستان میں مداخلت سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پر صورتحال خراب کرتا ہے۔وزیردفاع نے دہشت گردوں کے ساتھ آئی ایس آئی کے رابطے کے حوالے سے امریکی جنرل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ شروع کر رکھی ہے، پاکستان نے اپنے علاقے دہشت گردی سے پاک کئے ہیں، دہشت گرد گروپوں سے متعلق پاکستان کی پالیسی پر سابق امریکی وزیر خارجہ کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے۔ پاکستان میں کسی قسم کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں، امریکی فوج اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنا سکتی، بھارت کی سول سوسائٹی نے بھی دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے، بھارت افغانستان میں ٹی ٹی پی اور جماعت احرار سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔اس دوران ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور خطے کے اقتصادی مفادات پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں اور آج ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلارہے ہیں لیکن دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ان کے خلاف بلاتفریق آپریشن کررہے ہیں جب کہ اس وقت پاکستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کامنظم ٹھکانہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سرحدوں پرنئی پوسٹیں بنائی ہیں اور ٹی ٹی پی اور داعش کے باعث مغربی سرحد پرفوج رکھنے پرمجبورہیں، ٢لاکھ سے زائد فوج مغربی، ایک لاکھ فوج مشرقی سرحد پرتعینات ہے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہماری سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، ہمیں ایران اور افغانستان سے کوئی خطرہ نہیں لیکن سرحد پر موجود غیر ریاستی عناصر سے خطرات موجود ہیں اور ہمارے تمام آپریشن کسی بھی ملک کی حکومت یا فوج کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے جو تینوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں۔

Comments are closed.