انصاف کے نظام کو درست کیا جانا چاہیے/صدر ہند
لوگوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا عدلیہ کا فرض/ چیف جسٹس

سرینگر؍25نومبر/ سی این ایس/ صدر ہند رام ناتھ کوووند نے فوری انصاف کے نظام کو درست کرنے اور ملک کی عدالتوں میں زیر التوا مقدموں کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے تنازعہ تصفیہ کے متبادل اقدامات پر زور دینے کا آج مشورہ دیا۔اس دوران بھارت کے چیف جسٹس (سی جے آئی) دیپک مشرا نے کہا ہے کہ آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا عدلیہ کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ سی این ایس کے مطابق قومی یوم قانون کے موقع پر پالیسی کمیشن اور قانون کمیشن کی مشترکہ سرپرستی میں منعقد دو روزہ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے رام ناتھ کوووند نے کہا کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور عدالتی نظام میں بھی اس کا بھرپور استعمال کرکے مقدموں کے فوری نمٹارے کا انتظام کیا جانا چاہئے۔صدر نے کہا کہ ملک کی عدالتوں میں مقدموں کا انبار لگاہوا ہے اور اس تصفیے کے لئے تنازعہ تصفیہ کا متبادل انتظام (اے ڈی آر) پر خاص زور دیا جانا چاہئے ۔بھارت کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے 146قومی یوم قانون145 کے موقع پر نئی دہلی میںمنعقد دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو آئین کے ذریعے بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں اور حکومت سے اس سے تجاوز کرنے کی توقع قطعی نہیں کی جاتی ہے۔اگر ان حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، یا اس کاتھوڑاسابھی خدشہ ہوتا ہے تو اس کی حفاظت کرنا عدلیہ کا فرض ہے۔ عدلیہ کی بڑھتی ہوئی145عدالتی سرگرمیکے حالیہ الزامات کے سلسلے میں چیف جسٹس نے کہا کہ آئین نے عدلیہ کے حقوق کا واضح ذکر کیا ہے، لیکن اس کے عمل کو آج عدلیہ کیعدالتی سرگرمی قرار دیا جانے لگا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ کی سرگرمی کچھ اور نہیں بلکہ شہریوں کے حقوق کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کی توسیع کی گئی ہے۔یہ بنیادی حقوق تشریح کے موضوعات ضرور ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو چیز آج متعلقہ نہیں نظر آتی، کل وہ متعلقہ ہو سکتی ہے۔ جسٹس مشرا نے کہا کہ عدلیہ کسی کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔انہوں نے کہا ہم پالیسی سازی کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،ہم پالیسیاں بھی نہیں بناتے، لیکن ہم پالیسیوں کی تشریح ضرور کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارا فرض ہے۔ اس موقع پر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ آئین سازوں نے ہمیں آئین کے طور پر ایک انمول ثقافتی ورثہ فراہم کیا ہے

Comments are closed.