ویڈیو: نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال ایک تباہ کن شکل اختیار کرگیا، منشیات کی وباء ’خاموش قاتل‘ :میر واعظ
ظلم و جبر ، ماردھاڑ اور حقوق انسانی کی بے دریغ پامالیاں ، واحد ہدف کشمیری نوجوان
سرینگر: حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے کشمیری سماج خصوصاً نوجوانوں میں منشیات کی جانب بڑھتے ہوئے رحجان کو ایک انتہائی پریشان کُن معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال ایک تباہ کن شکل اختیار کرگیا ہے اور یہ مسئلہ پوری قوم کیلئے ایک چیلنج بن کر کھڑا ہوا ہے ۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے کہا کہ ایک طرف جموںوکشمیر میں ظلم و جبر ، ماردھاڑ اور حقوق انسانی کی بے دریغ پامالیاں ہو رہی ہیں جن کا واحد ٹارگٹ یہاں کا نوجوان ہے اورجہاں یہ ظلم و جبر ہم سب کیلئے تشویش کا باعث ہے وہیں ایک پریشان کُن معاملہ وادی کشمیر کے اندر منشیات کا بڑھتا ہوا رحجان ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کچھ جوانوں تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ سینکڑوں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں میں یہ وبا پھیل گئی ہے اور ان میں زیادہ تر نوجوان طالب علموں کی بڑی تعداد ملوث ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں پر کن مسائل اور معاملات کا دبائو ہے اور یہ کن حالات کے شکار ہیں اور منشیات کے اس بڑھتے ہوئے رحجان کی کیا وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ جموںوکشمیر ایک متنازعہ علاقہ(شورش زدہ خطہ) ہے ، مار دھاڑجس کا نوجوان آئے روز شکار ہوتا ہے ،ا س کے علاوہ کیاگھریلو معاملات، معاش، روزگار اور تعلیم کا دبائو وغیرہ جیسی وجوہات یہاں کے نوجوان نسل کیلئے باعث پریشانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے بلکہ منشیات کی وبا ایک ’خاموش قاتل ‘ کی مانند ہے جو یہاں کے نوجوان نسل کو کھوکھلا کررہا ہے اور حد یہ ہے کہ صرف نوجوان لڑکے ہی نہیں بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی اس وبا کی شکار ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اس سنگین مسئلہ کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ والدین ، اساتذہ اور اس قوم کے ذمہ داروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مل جل کر اس چیلنج کا سامنا کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے اور اس کیخلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے ۔ ایک طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا پڑھا لکھا نوجوان ایک جائز حق کے حصول کیلئے اپنی جانیں دے رہا ہے ، اپنا خون دے رہا ہے اور دوسری طرف ہم روز اخبارات میں یہ پڑھ رہے ہیں کہ اتنے لوگوں کو منشیات اور ’برائون شوگر‘ کے ساتھ پکڑا گیا۔کشمیری سماج کہاں جارہا ہے ، وہ کشمیر جو کبھی اولیائے کرام کی سرزمین (پیروار) کہلاتی تھی آج یہی سرزمین منشیات کے اڈوں میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ ہو سکتا ہے کچھ گھروں میں دینی اور اسلامی ماحول کا فقدان نوجوانوںکو اس وبا کی جانب راغب کرنے کی وجوہات میںشامل ہو۔ بہر حال یہ سماج کے ہر طبقے کی ذمہ داری ہے ، امام وخطیب ، ائمہ مساجد اور این جی اوز کو آگے آکر مشترکہ طور اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ دنوں شہر خاص کے بہت سے نوجوانوں اور بزرگوں سے بات کی جس دوران منشیات کے استعمال کے حوالے سے چند جگہوں کی نشاندہی کی گئی ، کہا جارہا ہے کہ غنی اسٹیڈیم کے آس پاس منشیات کا کاروبار عروج پر ہے ، اس کے علاوہ حضرت مخدوم صاحب ایریا، مرغزاروں، بوسیدہ عمارات، حتیٰ کہ کہا جارہا ہے کہ عیدگاہ میدان کے آس پاس بھی اس حوالے سے حالات بہت بدتر ہیں۔سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے۔ ایک طرف وہ ہمارے نوجوانوں کو پکڑ پکڑ کر جرم بے گناہی کی پاداش میں جیلوں کے اندر ٹھونس رہی ہے اور دوسری طرف کشمیر میں پھیلتی ہوئی اس وبا کے تئیں ان کی غفلت شعاری حد درجہ افسوسناک اور مجرمانہ ہے۔میرواعظ نے کہا کہ حکومت کیا کرے یا کیا نہ کرے ، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، ہم سب کو کھڑا ہونا ہے ، علاقائی سطحوں پر نوجوانوں کا ٹاسک فورس ترتیب دینا ہے ، محلہ کمیٹیوں ، مسجد کمیٹیوں اور علاقہ کمیٹیوں کو متحرک کرنا ہے جو نوجوانوںکی روز مرہ کی سرگرمیوںپر نظر رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اب یہاں شراب کی وبا بھی خطرناک صورت اختیار کرگئی ہے اور اس حوالے سے اعداد و شمار بہت ہی پریشان کن اور باعث تشویش ہیں۔انہوں نے کہا کہ منشیات اور شراب کی یہ وباہمارے مستقبل اور ہمارے نوجوانوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دے گی ۔ اس معاملے کو سطحی طور نہیں لینا ہے بلکہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس وبا پر قابو پایا جاسکے ۔
Comments are closed.