دنیا کی کسی قوم کی قوت مزاحمت کو طاقت کے بل پر نہیں دبایا جاسکتا:جےآرایل

سرینگر:(پی آر)مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں جنوبی کشمیر میں فوج اور فورسز کی جانب سے نہتے عوام کیخلاف پُر تشدد کارروائیوں ڈیڑھ درجن سے زائد دیہات کا کریک ڈاﺅن، راست فائرنگ سے ایک نہتے شہری فیاض احمد وانی کو جاں بحق کرنے اور درجنوںافراد کو زخمی اور CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ، ہراسانیوں، مار دھاڑ، اور ہزاروں کی آبادی کو محصور کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس طرح کی کارروائیوں کو کھلی سرکاری دہشت گردی قرار دیا ہے۔

انہوں نے جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں نہتے عوام کیخلاف طاقت اور تشدد کے استعمال اور قتل و غارت گری کے واقعات کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام کی تحریک مزاحمت کے تئیں وابستگی اور بھارت کے جارحانہ اور عوام کُش عزائم کیخلاف کھلی مزاحمت سے حکومت ہندوستان اور اس کے ریاستی حواری شدید بوکھلاہٹ کے عالم میں اب نہتے عوام کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رہے ہیں اور پُر امن مظاہرین کو طاقت کے بل پر کچلنے کی انتقام گیرانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کسی قوم کی اجتماعی جدوجہد اور قوت مزاحمت کو طاقت کے بل پر نہیں دبایا جاسکتا اور نہ فوجی قوت کے بل پر یہاں کے عوام کو اپنی جائز جدوجہد سے دستبردار کیا جاسکتا ہے اورنہ لاکھوں کی تعداد میں مسلح افواج اور فورسز کو نہتے کشمیریوں پر مسلط کرکے یہاں کے حریت پسند عوام کو اپنی مبنی برحق تحریک حق خودارادیت کے تئیں ان کی غیر متزلزل وابستگی ختم کی جاسکتی ہے۔

اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دیئے گئے احتجاجی پروگرام کی پیروی میں مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز ظہر کے بعد حریت پسند رہنماﺅں ، کارکنوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سرکردہ مزاحمتی رہنما محمد یاسین ملک کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران جنوبی کشمیر میں فوج اور فورسز کی جانب سے نہتے عوام کیخلاف مار دھاڑ، ظلم و جبر ، CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ ، قتل و غارت گری، ایک نہتے نوجوان کو شہید کئے جانے اور ڈیڑھ درجن سے زائد دیہات میں سخت ترین کریک ڈاﺅن کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا ۔

اس موقعہ پر مظاہرین سے اپنے خطاب میں محمد یاسین ملک نے جنوبی کشمیر میں سرکاری دہشت گردی کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے کشمیری عوام کیخلاف مظالم اور پُر تشدد کارروائیوں کا جو نیا سلسلہ شروع کیا ہے اُس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائیگا اور اگر حکمرانوں نے اپنی جارحانہ کارروائیوں سے عبارت روش ترک نہیں کی تو کشمیری حریت پسند عوام اس کھلی جارحیت کیخلاف سڑکوں کا رخ کریں گے ۔
انہوں نے جنوبی کشمیر میں نہتے عوام کیخلاف ظلم و جبر کی کارروائیوں کو فوری طور بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام کو فوج اور فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور وہاں کے لوگ اس وقت شدید سرکاری دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں ۔

مظاہرے میں جن سرکردہ مزاحمتی رہنماﺅں اور کارکنوں نے شرکت کی ان میں غلام نبی زکی، شیخ عبدالرشید، مشتاق احمد صوفی، شوکت بخشی، ہلال احمد وار، اشرف بن سلام، غلام قادر بیگ، بشیر کشمیری، محمد یوسف نقاش، حکیم عبدالرشید، محترمہ یاسمین راجہ، امتیاز حیدر، عبدالرشید اونتو، عبدالمجید وانی، سید بشیر اندرابی، پرنس سلیم، فاروق احمد سوداگر، امتیاز احمد شاہ، ایڈوکیٹ یاسر دلال، غلام حسن میر، سید محمد شفیع، فردوس احمد وانی، محمد شفیع میر، غلام محمد ناگو، محمد یاسین عطائی وغیرہ شامل ہیں جبکہ سینئر حریت رہنما مختار احمد وازہ جو احتجاج میں شرکت کی غرض سے سرینگر آرہے تھے کو پولیس نے راستے میںگرفتار کرکے سنگم تھانے میں مقید کردیا جس کی مظاہرین نے شدید مذمت کی۔

Comments are closed.