سرینگر: نیشنل کانفرنس کے بعد عوامی نیشنل کانفرنس نے سپریم کورٹ میں دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے ملک کی نامور اور ممتاز قانون دان ایڈوکیٹ میناکشی ارورا کی خدمات حاصل کی ہیں.
پارٹی کے سینئر لیڈر مظفر شاہ نے دہلی سے جاری ایک بیان میں کہا کہ آرٹیکل 35 اے کے دفاع کےلئے عوامی نیشنل کانفرنس نے سپریم کورٹ کی معروف وکیل ایڈوکیٹ میناکشی ارورا کی خدمات حاصل کی ہیں ،جو سپریم کورٹ میں دفعہ 35 اے کے دفاع میں عوامی نیشنل کانفرنس (اے این سی) اور جے کے سیول سوسائٹی کواڑی نیشن کمیٹی کے ممبران ناصر الاسلام ،جگ موہن رینہ اور ایڈوکیٹ جاوید میر کی جانب سے اس کیس کا دفاع کریں گی .
ان کا کہناتھا کہ ایڈوکیٹ میناکشی ارورا سیول سوسائٹی جموں (جے کے یونائیٹیڈ پیس مومنٹ)کی جانب سے بذریعہ دلدار سنگھ ساکنہ وارڈ نمبر 13 سامبا اور مسٹر شاہ کورٹ میں پیش ہوجائیں گی .
میناکشی ارورا نے دہلی ہائی کورٹ میں 1984 میں قانون کی پریکٹس شروع کی اور1986 میں سپریم کورٹ میں اپنی پریکٹس شروع کی.
سال 2010 میں ایڈوکیٹ میناکشی ارورا کو ہائی کورٹ جج بننے کی پیشکشکی گئی تھی ،تاہم انہوں نے جج بننے کے بجائے سپریم کورٹ میں پرائیویٹ پریکٹس جاری رکھی .میناکشی ارورا الیکشن کمیشن آف انڈیا میں اسٹینڈنگ کونسل کے عہدے پر فائز رہیں .
یاد رہے کہ دفعہ 35 اےسے متعلق قانونی دفاع کے حوالے ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کی اگلی سماعت پر حکومت کی طرف سے نامزد وکلا ء کیس کی ٹھوس بنیادوں پر پیروی کریں گے۔
ریاستی حکومت کے سامنے دفعہ 35 اےایک اہم مسئلہ ہے جس کے دفاع کی خاطر حکومت نے ایک نئے سینئر وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں ریاست میں نئے گورنر ستیا پال ملک کی تعیناتی کے بعد عوامی حلقوں میں یہ افواہ گشت کررہی تھی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس دفعہ 35Aکے حوالے سے ریاستی حکومت کے مؤقف میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ عوامی حلقوں میں ریاست کی خصوصی پوزیشن کو سپریم کورٹ میں چلینج کرنے سے کافی تشویش پائی جارہی تھی جبکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ افواہ جاری تھی کہ نئے گورنر کی تعیناتی کے بعد ریاستی حکومت نئی دہلی کے سامنے سرتسلیم خم کرے گی۔ ادھر ریاستی حکومت نے اتوار کو ان تمام قیاس آرائیوں اور افواہوں کو م
ادھر نیشنل کانفرنس نے سپریم کورٹ میں دفعہ 35 اے کے دفاع کے لئے ملک کے نامور اور ممتاز قانون دان گوپال سبرامنیم کی خدمات حاصل کی ہیں۔
Comments are closed.