یوم عید : عید اجتماعات ،احتجاج ، ہلاکتیں

کشمیر میں نماز عید کے روح پرور اجتماعات منعقد، مختلف علاقوں میں پُرتشدد مظاہرے

شوکت ساحل

سری نگر::: دنیا کے مختلف حصوں کی طرح وادی کشمیر میں بھی عیدالاضحی کی تقریب سعید انتہائی مذہبی جوش و خروش اور روایتی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ سنت ابراہیمی (ع) کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ تاہم موصولہ اطلاعات کے مطابق نماز عیدین کے اجتماعات کے بعد وادی کے مختلف علاقوں میں آزادی حامی لوگوں کی سیکورٹی فورسزکے ساتھ پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں متعدد افراد بشمول ایک سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جھڑپوں کے دوران ایک نوجوان آنکھ میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوا ہے، جسے علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

وادی میں بدھ کے روز عیدالاضحی کے پیش نظر ریل سروس معطل رہی جبکہ معطلی کا یہ سلسلہ جمعہ کے روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تشدد کے اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر وادی کے بیشتر علاقوں میں نماز عیدین کے اجتماعات پرامن طور پر اختتام کو پہنچے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق عیدالاضحی یا عید قربان کے اس سلسلے میں وادی کے طول وعرض کی مساجد، عیدگاہوں اور امام بارگاہوں میں عیدین کی دوگانہ نماز کے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے۔
عیدالاضحی کے ان روح پرور اجتماعات میں وادی میں مکمل امن وامان کی بحالی، ترقی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ نماز عید کی ادائیگی کے بعد وادی کے تقریباً تمام علاقوں میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون (آئین ہند کی دفعہ 35 اے) کے خلاف ہورہی مبینہ سازشوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
یاد رہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں علمائے کرام اور ائمہ مساجد اور تمام ملی اور دینی اداروں کے ذمہ داروں پر زور دیا تھا کہ وہ عید الاضحی کے خطبات میں عوام الناس کو ان کی دینی اور سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع کے پس منظر سے آگاہ کرنے کے علاوہ جموں وکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاست کی جیلوں میں سالہا سال سے ایام اسیری کاٹ رہے کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔

وادی کشمیر میں نماز عید کے سب سے بڑے اجتماع سری نگر کے پائین شہر میں واقع تاریخی عیدگاہ اور شہر آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئے جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے نماز عید ادا کی۔ وادی میں نماز عیدین کے اجتماعات میں خطباء و علماء کرام نے عید الاضحی کی اہمیت، فضیلت اور فضائل، حضرت ابراہیم (ع) و حضرت اسمٰعیل (ع) کی پیغمبرانہ سیرتوں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

حریت کانفرنس (ع)کے چیئر مین اور متحدہ مجلس جموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق نے سری نگر کے تاریخی عیدگاہ میں نماز عید ادا کی۔ انہوں نے نماز عید سے قبل نمازیوں کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت، پارلیمان اور اسمبلی جموں وکشمیر کے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتی۔ ان کا کہنا تھا ’جموں وکشمیر جو سٹیٹ سبجیکٹ قانون ہے، یہ قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے، یہ سنہ 1927 کا قانون ہے۔ اس قانون کے ساتھ کوئی عدالت، کوئی پارلیمنٹ اور کوئی اسمبلی چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتی۔ جب تک یہاں کے لوگوں کو استصواب رائے کا حق نہیں دیا جاتا ہے تب تک یہ قانون جاری رہے گا‘۔ میرواعظ نے کہا کہ اہلیان جموں وکشمیر مسئلہ کشمیر کی ہیئت کو تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا ’ہم یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پورے جموں وکشمیر کی عوام کی ایک ہی آواز ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کی ہیئت کو تبدیل ہونے نہیں دیں گے۔ اگر حکومت چور دروازے یا عدالت کے ذریعے جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو جموں وکشمیر کا ہر ایک باشندہ ایجی ٹیشن کے لئے تیار ہے۔ وہ ایجی ٹیشن پھر رکنے کا نام نہیں لے گی۔ ہم جموں وکشمیر کی عوام کے حقوق پر کسی کو کاری ضرب لگانے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ دوسری جانب بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی گذشتہ قریب آٹھ برسوں سے اپنی رہائش گاہ پر نظر ہیں۔
حریت کے ترجمان نے کہا کہ مسٹر گیلانی کی رہائش گاہ کو عملاً ایک جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں ان کے محبوں، کارکنوں اور رشتہ داروں سے جیل ملاقاتیوں کی طرح جامہ تلاشی کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وادی میں نماز عیدالاضحی کی ادائیگی کے بعد متعدد مقامات پر لوگوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی احتجاجی مظاہرین زخمی ہوئے۔ اننت ناگ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک سی آر پی ایف اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد بعض مقامی نوجوانوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ ان میں متعدد احتجاجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک احتجاجی نوجوان آنکھ میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوا ہے۔ قصبہ کے جنگلات منڈی علاقہ میں ایک سی آر پی ایف اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

کئی مقامات پر مشتعل مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں :فوٹو سوشل میڈیا

شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کپواڑہ میں بھی احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ادھر سری نگر کے عیدگاہ میں بھی نماز عید کی ادائیگی کے بعد احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز نے پتھراؤ کے مرتکب احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور پیلٹ شلنگ کا سہارا لیا۔ دریں اثنا وادی میں ریل خدمات تین روز کے لئے معطل کی گئی ہیں۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’وادی میں تمام ٹرینیں عید کے پیش نظر تین روز کے لئے معطل رکھی گئی ہیں ‘۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ مقامی انتظامیہ کے مشورے پر لیا گیا ہے۔

فاروق عبداللہ کو ’بھارت ماتا کی جے‘ نعرہ لگانا مہنگا پڑا، نماز عید کے اجتماع میں شدید ہزیمت اٹھانا پڑی

نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو بدھ کے روز سری نگر کے درگاہ حضرت بل میں اس وقت شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب نماز عیدالاضحی کے اجتماع کے شرکاء نے ان کی موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے ’کشمیر کی آزادی‘ اور ’پاکستان کے حق میں‘ شدید نعرے بازی کی۔
فاروق عبداللہ نے گزشتہ روز نئی دہلی میں سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’جے ہند‘ کے نعرے لگائے تھے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر کے مضافاتی علاقہ حضرت بل میں واقع درگاہ حضرت بل میں بدھ کو نماز عیدالاضحی شروع ہونے سے عین قبل نمازیوں کی ایک بڑی تعداد نے فاروق عبداللہ کی موجودگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی شروع کردی۔ اگرچہ درگاہ کے امام نے صورتحال کو پرسکون بنانے کی کوششیں کیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔

احتجاج کرنے والے چاہتے تھے کہ فاروق عبداللہ کو درگاہ کی صحن سے باہر نکالا جائے۔ ان کی جانب سے ’کشمیر کی آزادی‘ اور ’پاکستان کے حق میں‘ شدید نعرے بازی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق درگاہ میں شدید افراتفری کے عالم میں نماز عیدالاضحی ادا کی گئی۔
صورتحال کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے فاروق عبداللہ عید کی دو رکعت نماز ادا کرنے کے فوراً بعد درگاہ حضرت بل سے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوئے۔ انہوں نے نماز عید کا خطبہ بھی نہیں سنا۔ واقعہ کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

کشمیریوں کی چوتھی نسل سڑکوں پر ہے، مسائل کے حل کیلئے مذاکرات ضروری: میرواعظ

حریت کانفرنس (ع) چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر اعلیٰ میرواعظ مولوی عمر فاروق نے پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کے بیان کہ ’مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کرنا ہوں گے اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل نکالناہوگا‘ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی چوتھی نسل آج سڑکوں پر ہے۔ میرواعظ نے سری نگر کے تاریخی عیدگاہ میں منعقدہ نماز عیدالاضحی کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’آج کے دن کے موقع پر ہم حکومت ہندوستان کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عمران صاحب کی قیادت میں ایک نئی حکومت بنی ہے۔
انہوں نے دوستی، امن اور مذاکرات کا پیغام بھیجا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس پر عمل ہو، دونوں ممالک بات چیت کا راستہ اختیار کریں اور کشمیریوں کو شامل کرکے اس مسئلہ کے حل کے لئے آگے بڑھیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ حکومت ہندوستان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ آج کشمیریوں کی چوتھی نسل سڑکوں پر ہے۔ احتجاج کررہی ہے۔ یہ احتجاج تب تک تھمنے اور رکنے والا نہیں ہے جب تک کہ ہمیں اپنا حق نہیں دیا جاتا ہے‘۔
بتادیں کہ پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم نے گزشتہ روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کرنا ہوں گے اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل نکالناہوگا۔ غربت مٹانے اور برصغیر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا آسان ترین نسخہ ہے کہ بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کئے جائیں اور باہم تجارت کا آغاز کیا جائے‘۔

جموں وکشمیر کے لوگ اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع کیلئے قربانیاں دینے کیلئے تیار: میرواعظ

حریت کانفرنس (ع) چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر اعلیٰ میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کہا کہ اہلیان جموں وکشمیر سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون کے دفاع کے لئے ریاست کے تینوں خطوں کے لوگ بلالحاظ مذہب و ملت متحد ہیں۔ میرواعظ نے سری نگر کے تاریخی عیدگاہ میں منعقدہ نماز عیدالاضحی کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون (دفعہ 35 اے) کے حوالے سے بھر پور دفاع اور اس کے حفاظت کے لئے ریاست کے تینوں خطوں کے عوام بلا لحاظ مذہب و ملت متحد ہیں اور اس ضمن میں ہر طرح کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں‘۔
انہوں نے کہا ’ اگر 27 اگست کو خدانخواستہ بھارتی سپریم کورٹ سے کوئی ایسافیصلہ آتا ہے جو کشمیری عوام کے جذبات اور احساسات اور ان کے اجتماعی مفادات کے منافی ہو اس کے خلاف لوگ بھر پور مزاحمت کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں گے اور صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی‘۔
حریت چیئرمین میرواعظ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا خطے میں مستقل امن و سلامتی کے قیام کے لئے مسئلہ کشمیر کا مذاکراتی عمل سے حل تلاش کرنے کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے خواہشمند ہیں۔
انہوں نے کہا ’ طاقت اور تشدد کے وحشیانہ استعمال اور کشمیریوں پر مظالم ڈھانے سے اس مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا ہے لہٰذا سیاسی پہل اور مثبت اقدامات سے ہی مسئلہ کا حل ممکن ہے‘۔
میرواعظ نے جموں وکشمیر اور بھارت کے مختلف جیلوں میں برسہا برس سے مقید رکھے گئے سیاسی قیدیوں ، حریت پسندوں ، تحقیقاتی ایجنسیوں (این آئی اے اور ای ڈی) کے ذریعے جیلوں میں نظر بند رکھے گئے کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں کے عزم و استقلال کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کی قربانیوں کے لئے مرہون منت ہیں اور ان کے عزم و استقامت کو سلام پیش کرتی ہے۔
اس دوران حریت ترجمان نے عیدگاہ سری نگر میں دوران نماز ہی اس کے علاوہ اننت ناگ ،سوپور اور دیگر مقامات پر عید کے اجتماعات پر سیکورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے ٹیئر گیس شلنگ اور پیلٹ کے استعمال کے نتیجے میں درجنوں افراد کو زخمی کر دینے کی کارروائیوں کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی پر زور مذمت کی ۔

جموں میں عید الضحیٰ کی روح پرور تقاریب منعقد

جموں میں عید الضحیٰ کا تہوار مذہبی جوش وخروش کے ساتھ منایا جارہا ہے۔اس دوران پورے جموں میں روح پرور تقاریب منعقد ہوئیں۔
صوبہ کی سب سے بڑی تقریب مرکزی عیدگاہ واقع ریذیڈنسی روڈ جموں پر ہوئی جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے سربسجود ہوکر دو رکعت نماز عید ادا کی۔اس کے علاوہ خطہ کی دیگر مرکزی عیدگاہوں، مساجد میں نماز عید ادا کی گئی۔
خطبہ عید میں علماء ومفتیان نے سنت ابراہیمی کے اغراض ومقاصد پر مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے تلقین کی کہ غربا، مساکین، یتیم لوگوں کا اس دن پر خاص خیال رکھاجائے۔ نماز عید کے بعد قربانی دینے کا عمل جاری ہے۔جموں میں زیادہ تر بکرے، بھیڑو اور اونٹ کی قربانی کی جاتی ہے۔
انتظامیہ کی طرف سے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ اس دوران مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی دیکھنے کو ملی، بیشتر مساجد اور عیدگاہوں کے باہرہندو، سکھ وعیسائی طبقہ سے بڑی تعداد میں معزز شخصیات مسلمان بھائیوں کو مبارک باددینے کے لئے موجود تھیں۔

جنوبی کشمیر میں مشتبہ جنگجوؤں کے ہاتھوں بی جے پی کارکن ہلاک

جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مشتبہ جنگجوؤں نے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے ایک کارکن کو اغوا کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ جنگجوؤں نے پٹھان پلوامہ کے رہنے والے شبیر احمد بٹ کو گذشتہ شام اس وقت اغوا کرلیاجب وہ اپنے گھر کی طرف جارہا تھا۔ پولیس کو اس کی گولیوں سے چھلنے لاش لتر پلوامہ سے برآمد ہوئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ’پولیس کو منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو لتر پلوامہ میں گولیوں سے چھلنے لاش کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ پارٹی نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا‘۔
انہوں نے بتایا ’مقتول نوجوان کی شناخت پٹھان پلوامہ کے رہنے والے شبیر احمد بٹ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ وہ مبینہ طور پر بی جے پی کے ساتھ وابستہ تھا‘۔ اس دوران پولیس ذرائع نے بتایا کہ واقعہ کی نسبت پولیس تھانہ لتر میں معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

پورا بی جے پی خاندان شبیر بٹ کے ساتھ ہے:کاویندر گپتا

جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے پٹھان علاقہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کارکن شبیر احمد بٹ کا مشتبہ جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوااور قتل کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا بی جے پی خاندان بٹ کے ساتھ ہے۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ اور سنیئرپارٹی لیڈرکاویندر گپتا نے کہاکہ جب بھی کشمیر میں حالات معمول پر لوٹتے ہیں تو اس طرح کی وارداتیں انجام دی جاتی ہیں تاکہ عام لوگوں میں خو ف ودہشت کا ماحول پیدا کیاجائے۔
انہوں نے کہاکہ پورا بھارتیہ جنتا پارٹی پریوار شبیر احمد بٹ کے اہل خانہ کے ساتھ ہے، ہم اس واردات کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایاکہ پاکستانی ا سپانسر کردہ جنگجو اور طاقتیں کشمیر میں پرامن حالات دیکھنا نہیں چاہتے۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں اور سیاسی ورکروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کا نیا رحجان جوجنگجوؤں نے کشمیر میں شروع کیا ہے وہ تشویش کن ہے لیکن انہیں امید ہے کہ سیکورٹی فورسز اور پولیس جلد ہی واردات انجام دینے والوں کو گرفتار کرلے گی۔

کولگام اور پلوامہ میں مشتبہ جنگجوؤں کے ہاتھوں ایک پولیس افسر سمیت 3 پولیس اہلکار ہلاک

جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں بدھ کے روز مشتبہ جنگجوؤں نے ایک ٹرینی پولیس کانسٹیبل پر گولیاں چلاکر اسے ہلاک کردیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ جنگجوؤں نے زانگل پورہ کولگام کے رہنے والے ٹرینی پولیس کانسٹیبل فیاض احمد شاہ ولد محمد رمضان شاہ پر اُس وقت گولیاں چلائیں جب وہ مقامی عیدگاہ میں عیدالاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے گھر کی طرف آرہا تھا۔ اگرچہ یہ رپورٹ فائل کئے جانے تک کسی بھی جنگجو تنظیم نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی، تاہم ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاکت کے پیچھے حزب المجاہدین کا ہاتھ ہے۔
کشمیر زون پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹراکاونٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’کولگام میں پولیس اہلکار فیاض کی ہلاکت میں حزب المجاہدین کا ہاتھ ہے‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ جنگجوؤں کی گولیوں سے شدید طور پر زخمی ہونے والے فیاض احمد شاہ کو نذدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے بتایا ’ریاستی پولیس نے واقعہ کی نسبت معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے‘۔

ادھر لیسہ وانی پلوامہ میں جنگجوئوں نے محمد یعقوب شاہ ولد لال شاہ کو گولی مار کر ابی نیند سلادیا .پولیس ترجمان کے مطابق مذکورہ اہلکار اسپتال پہنچایا گیا ،تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا.پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار کی ہلاکت میں حزب المجاہدین کے جنگجو ملوث ہے .

پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر ریاستی پولیس کے سربراہ برہم

ریاستی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ایڈوائزی کی خلافورزی کرنا ہے .انہوں نے کہا کہ اگر پویس اہلکاروں نے ایڈوائزی پر عمل کیا ہوتا ،تو یہ ہلاکتیں نہیں ہوتی .انہوں نے ہلاکتوں کو بدقسمتی سے تعبیر کیا.

ان کا کہناتھا کہ عید جانے کے حوالے سے دونوں اہلکاروں نے پولیس ایڈوائزی کو نظر انداز کیا.انہوں نے کہا کہ بی جے پی سیاسی .

کارکن نے بھی اپنے ساتھ سیکورٹی نہیں لی تھی ،جسکی وجہ سے وہ سافٹ ٹارگیٹ بن گئے.دریں اثناء پولیس ترجمان کے مطابق جنگجوئوں نے شام دیر گئے محمد اشرف نامی پولیس انسپکٹر کو گولی مار کر ابدی نیند سلا دیا .یہ جنوبی کشمیر میں چوتھی ہلاکت ہے .(بشکریہ یو این آئی )

Comments are closed.