مستونگ بلوچستان پاکستان میں انتخابی ریلی پر قابل مذمت :میر واعظ

اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا غم کشمیری عوام سے زیادہ اورکون سمجھ سکتا ہے

سرینگر:۱۴،جولائی:/ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا غم کشمیری عوام سے زیادہ اورکون سمجھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اہلیان کشمیر کو ہر روز سرکاری دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔میرواعظ عمر فاروق نے مستونگ بلوچستان پاکستان میں ایک انتخابی ریلی پر ہوئے حملے کی مذمت کی ۔ کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے مستونگ بلوچستان پاکستان میں ایک انتخابی ریلی پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں تقریباً130 کے قریب قیمتی جانوں کے زیاں اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہوجانے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا غم کشمیری عوام سے زیادہ اورکون سمجھ سکتا ہے جو روز اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھاتے ہیں اور جنہیں روزانہ سرکاری دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ میرواعظ نے اس المناک سانحہ پر پاکستانی عوام ،حکومت پاکستان اور خاص طور پر جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اپنی اور کشمیری عوام کی جانب سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مرحومین کی جنت نشینی اور زخمی افراد کی فوری شفایابی کیلئے خصوصی دعا کی۔اس دوران میرواعظ کی ہدایت پر حریت کانفرنس کے اراکین غلام نبی زکی ، غلام نبی نجار ، عبدالرشید اونتو ، عبدالمجید وانی،جعفر کشمیری اور ماسٹر گل محمد پر مشتمل وفد نے ہاوورہ کولگام جاکر گزشتہ دنوں سرکاری فورسز کے ہاتھوں جاں بحق کئے گئے12 سالہ کمسن طالبہ عندلیب دخترعلی محمد الائی،20 سالہ ارشاد احمد لون ولد عبدالمجید لون اور 22 سالہ شاکر احمد کھانڈے ولد محمد حسین کھانڈے کے لواحقین کے ساتھ حریت چیرمین اور قیادت کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ اس موقعہ پرمیرواعظ نے ٹیلیفون کے ذریعہ جاں بحق ہوئے افراد کے لواحقین کے ساتھ اس سانحہ پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بلند نصب العین کیلئے دی جارہی قربانیاں اور ان قربانیوں کی حفاظت کے تئیں کشمیری عوام کی استقامت ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے ۔انہوں نے کہا کہ پورے کشمیر خصوصاً جنوبی کشمیر میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں مار دھاڑ اور قتل و غارت گری کے واقعات ہر لحاظ سے نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ جس طرح اس پورے علاقے کو فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے وہ ایک افسوسناک عمل اور حقوق بشر کے عالمی اداروں کیلئے چشم کشا ہے ۔ بیان کے مطابق حریت اراکین نے کولگام کے مختلف علاقوں میں گزشتہ دنوں سرکاری فورسز کے ہاتھوں بلا جواز فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے افراد کی عیادت بھی کی اور ان تک حریت قیادت کی جانب سے نیک خواہشات اور فوری شفایابی کا پیغام پہنچایا۔ حریت وفد نے بعد میں سرکردہ مزاحمتی رہنما مختار احمد صوفی کے والد کے انتقال پر ان کے گھر جاکر غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور مرحوم کے بلند درجات کیلئے دعا کی۔

Comments are closed.