پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم نے کی دہشت گردانہ حملوں کی مذمت

پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم نے کی دہشت گردانہ حملوں کی مذمت

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور نگراں وزیر اعظم رٹائرڈ جج ناصر الملک نے مستونگ اور بنوں میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔جمعہ کو ہوئے ان حملوں میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ریڈیو پاکستان کی ہفتہ کو جاری رپورٹ کے مطابق حسین اور ملک نے دھماکوں میں لوگوں کے مارے جانے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے زخمیوں کو سب سے بہتر طبی سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایات دیں۔ نگراں وزیر اعظم ناصر الملک نے بلوچستان کے نگراں وزیر اعلی علاء الدین مري سے فون پر واقعہ کی تفصیلات حاصل کی ہیں اور انہیں واقعہ کی تفصیلی رپورٹ بھیجنے کی ہدایات دی ہیں۔

پاکستان مسلح سیکورٹی فورس کی میڈیا یونٹ آئی ایس پی آر کے ڈائرکٹر جنرل نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اہم جمہوری سرگرمی میں رخنہ ڈالنے کی غیر سماجی عناصر کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ بلاول بھٹو زرداری، پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے صدر عمران خان اور متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے الگ بیان جاری کرکے ان بزدلانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔

’ڈان‘ اخبار نے بلوچستان کے وزیر داخلہ آغا عمربنگل زئی کے حوالہ سے بتایا کہ جنوب مغرب پاکستان میں بلوچستان کے مستونگ ضلع میں جمعہ کو دوپہر بعد ایک انتخابی ریلی میں ہوئے خود کش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی ( بی اے پی) کے امیدوار نوابزادہ سراج رئيساني سمیت 128 افراد کی موت ہو گئی اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے۔

مستونگ میں ہونے والا دھماکہ 2014 میں پشاور کے فوجی پبلک اسکول میں ہوئے قتل عام کے بعد سب سے مہلک حملہ ہے۔ مستونگ کا حملہ ملک میں آئندہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل سیاسی طور پر فعال شخص کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے اپنی نیوز ایجنسی ‘عماق’ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے۔

اس کے علاوہ بنوں شہر میں جمعہ کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے میں کم از کم چار افراد کی موت ہو گئی اور 32 دیگر زخمی ہو گئے۔ اگرچہ انتخابی ریلی سے واپس آ رہے جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مسٹر درانی اس حملے کے بعد مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

Comments are closed.