ترہگام مہلوک نوجوان کے نمازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
کپوارہ: ترہگام کپوارہ میں گذشتہ شام سگنباری کے دوران فوج کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے 26 سالہ خالد غفار ولد عبدالغفار ساکنہ ترہگام کی ہالاکت پر کپوارہ اور دیگر علاقہ جات میں سخت ہڑتال رہی جبکہ کپوارہ اور ترہگام میں انتظامیہ نے دفعہ 144نافز بھی کیا گیا ہے کسی کو ترہگام جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی جب انتظامیہ نے گذشتہ شب کو ہی انٹرنیٹ سروس معطل کرکے رکھ دیا اور ضلع میں سیکورٹی کی تعینانتی بڑا دی گئی ہے.
تفصیلات کے مطابق مہلوک نوجوان کے نماز ہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اشک بار آنکھوں سے سپر دلحد کیا گیا ہے اور جناز گاہ میں عسکریت پسندوں کے دو کمانڈر زاکر موسی اور برہان وانی کی پوسٹر ایوازن نذر آے تھے اور مظاہرین نے جنازے میں اسلام اوا آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرہے لگائے اور نواجوں نے سبز جھنڈے ہاتھوں میں لیکر ہم کیا چاہتے آزادی کے نعرہ بلند کئے.
اس دوران مہلوک خالد کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا بے گناہ تھا اور فوج نے انہیں بنا کسی خاتہ نشانہ بنا کر جاں بحق کردیا جس پر انہوں نے سخت سزا اور جلد ازجلد تعقیقات کا مطالبہ کیا ہے.
انہوں نے کہاکہ فوج نے گونر راج کا غلط فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کا قتل عام کرنے میں کوئی ٓبھی کسر باقی نہیں چھوڑ ریے ہیں.
ہمارے نمائندے کے مطابق ترہگام میں ایک بار پھر اس وقت حالات کشیدہ ہوئی جب مہلوک نوجوان کو سپرد لحد کیا اس دوران ایک بڑا جلوس سڑکوں پر نکلا آیا اور اسلام اور آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی اور احتجاجی مظاہرے کرنے لگے اور پولیس چوکی ترہگام پر پتھرٓاو کرنا شروع کیا جس کے جواب میں سیکورٹی فورسز اہلکاوں نے انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے طرفین کے درمیان سخت پتھرو شروع ہوا جس کے جواب میں مظاہرین پر قابو کرنے کےلئے سوئنڈ بمم اور ٹیر گیس شلنگ کا بے تحاشہ استعمال کیا گیا جس سے علاقے ترہگام میں حالات کشیدہ ہوئی اور کئی گھنٹوں تک پتھرو اور شلنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں نصف درجن مظاہرین زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت تشوناک بتایا جارہی ہے اور انہیں ضلع کے مخلتف اسپتالوں میں منقتل کیا گیا ہے تاہم ضلع میں حالات کشیدہ اورپر تنائو بنے ہویے ہیں.
Comments are closed.