ترہگام کپواڑہ میں فوج کی فائرنگ سے ایک طالب علم جاں بحق، دو زخمی

نوجوان کی موت واقع ہونے کی خبر پھیلتے ہی ترہگام میں تشدد بھڑک اٹھا۔ حالات کشیدہ اور پُر تناؤ

سرینگر11ٌؐ؍جولائی؍ جے کے این ایس ؍؍ ترہگام کپواڑہ میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی جس ے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں 20سالہ نوجوان کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ علاقے میں خبر پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرئے کرنے لگے۔ مقامی لوگوں کے مطابق فورسز اہلکاروں نے راہ چلتے نوجوانوں پر بندوقوں کے دہانے کھولے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق شام دیر گئے ترہگام کپواڑہ میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب فورسز نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے پیشے سے دکاندار 20سالہ خالد غفار ولد عبدالغفار ملک کو مردہ قرار دیا۔ نمائندے کے مطابق کپواڑہ ، ترہگام اور ہندواڑہ میں نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی مرد و زن نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور ترہگام کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر آمنا سامنا ہوا جس دوران سیکورٹی فورسز نے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق ترہگام کے نزدیک نوجوان معمول کے مطابق اپنے کام میں مصروف تھے کہ اس دوران فوجی گاڑیوں میں سوار اہلکاروں نے بندوقوں کے دہانے کھولے جس کے نتیجے میں دو نوجوان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک کی موت واقع ہوئی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ترہگام کپواڑہ میں شام دیر گئے پتھراو کا کوئی واقع پیش نہیں آیا اور فوج نے بغیر کسی اشتعال کے نوجوانوں پر فائرنگ کی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان کی موت کن حالت میں ہوئی اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہزاروں کی تعداد میں ترہگام اور اُس کے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے نوجوان کی نعش کو کاندھوں پر اُٹھا کر آبائی گاؤں کی طرف پیش قدمی شروع کی جس دوران لوگ اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک ترہگام کپواڑہ میں حالات کشیدہ اور پُر تناؤ تھے۔ جے کے این ایس نے اس ضمن میں جب دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا کے ساتھ رابط قائم کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تفصیلات حاصل کی جار ہی ہے۔ ترجمان کے مطابق وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس بارے میں کچھ کہہ سکے۔

Comments are closed.