مزاحمتی لیڈران کی خانہ وتھانہ نظر بندی

معاندانہ طرز عمل:میر واعظ،سرکاری دہشت گردی:گیلانی،بھارت کا محبوب مشغلہ:ملک

سرینگر:۲۱،جون:/ حریت کے دونوں دھڑوں اور لبریشن فر نٹ نے مزاحمتی لیڈران کی تھانہ و خانہ نظر بندی کی مذمت کی ۔کے این این کو بھیجے گئے ایک بیا نات کے مطابق حریت (گ)ترجمان نے انتظامیہ کی جانب ریاستی عوام ، حریت پسند قائدین اور عام کارکنوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کی کاروائیوں کو سرکاری دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکی ہے ۔عید الفطر کے روز کشتواڑ میں عبدالقیوم متو اور دیگر آٹھ افراد کی گرفتاری کے واقع کی مذمت کرتے ہوئے ترجمان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست کے اطراف و اکناف میں عام لوگوں کے حقِ اظہار و خیال پر شدید قدغنیں عائد کردی گئی ہیں اور فوجی طاقت کے بل پر قبرستان کی خاموشی لاگو کی گئی ہے ،۔ترجمان نے حریت چیرمین سید علی گیلانی کو مسلسل بند رکھنے میرواعظ مولانا عمر فاروق،محمد یٰسین ملک اور محمد اشرف صحرائی کو مسلسل نظر بند رکھنے کی کاروائیوں کی زبردست مذمت کی ۔انھوں نے اپنے بیان میں انتظامیہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکام بغیر کسی جواز اور وجہ کے کسی بھی شخص کو آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کراور جملہ حقوق پامال کرکے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا ارتکاب کررہی ہیں۔انھوں نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں سے ریاستی عوام پر ڈھائے جارہے مظالم کا سنجیدہ نوٹس لینے کی اپیل کی ۔دریں اثنا ء حریت ترجمان کے مطابق حریت کا ایک وفد جس میں عمر عادل ڈار ،اشفاق احمد اور عبدالرشید بیگ شامل تھے ،نے حالیہ ایام میں پولیس بربریت کا شکار عبدالمجید، جو سکمزمیں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں، کی عیادت کی اور ان کی فوری صحت یابی کے لئے دعا کی ۔حریت ترجمان نے پولیس بربریت کی مذمت کرتے ہوئے ان بزدلانہ کاروائیوں کو بدترین قسم کی انتقام گیری قرار دیااور پولیس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوان نسل کو پشت بہ دیوار کئے جانے کی بزدلانہ کاروائیوں سے اجتناب کریں۔ادھر حریت (ع)نے سرکاری فورسز کے ہاتھوں ’’کیسو‘‘ کے تحت کشمیر خاص طور پر جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں خوف وہراس کا ماحول پیدا کرکے شبانہ چھاپوں، خانہ تلاشیوں اور نہتے شہریوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔حریت (ع) ترجمان نے حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گزشتہ رات سے ہی اپنی رہائش گاہ میرواعظ منزل نگین میں نظر بند کرکے موصوف کی جملہ دینی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر پہرے بٹھانے کی کارروائی کو انتہا پسندانہ اور معاندانہ طرز عمل سے تعبیر کرتے ہوئے حکمرانوں کے اس آمرانہ رویے کی پر زور مذمت کی ہے ۔ بیان میں مزاحمتی قیادت اور حریت رہنماؤں کی خانہ و تھانہ نظربندی جن میں سید علی گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی ، محمد یاسین ملک کو گرفتار کرکے مقامی تھانے میں بند کرنے ، مختار احمد وازہ اور انجینئر ہلال احمد وار سمیت درجنوں کارکنوں اور نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کارروائیوں کیخلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ طاقت اور قوت کے بل پر حریت پسند قیادت اور عوام کو دبانے کا عمل آمریت اور تاناشاہی کا بدترین مظاہرہ ہے اور اس طرح کے غیر جمہوری اور غیر انسانی حربوں سے یہاں کے عوام کی قوت مزاحمت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیری عوام بے سروسامانی کے باوجود گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم اور فوجی قوت کیخلاف جس طرح مزاحمت کررہے ہیں اس سے بھارت کے ارباب سیاست کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ محض فوجی طاقت اور عسکری قوت کے بل پر کسی قوم کے جذبہ مزاحمت کو نہ تو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس قوم سے آزادی کی لگن چھینی جا سکتی ہے۔بیان میں واگم پلوامہ میں باپ بیٹے کو گرفتار کرنے اور کئی علاقوں میں شبانہ چھاپوں کے دوران متعدد نوجوانوں کو حراست میں لینے اور پورے علاقے کا فوجی محاصرہ کرکے تلاشی کارروائیوں اور کشتواڑ میں مزاحمتی رہنما سمیت 9 افراد کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کی کارروائی کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ان حربوں سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ پوری قوم اور قیادت نے یکسوئی کے ساتھ اپنے نصب العین کے حصول کیلئے برسر جدوجہد رہنے کیلئے پر عزم ہے اور حصول مقصد تک اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھنے کاتہیہ کررکھا ہے۔اس دوران ایک بیان میں لبریشن فرنٹ کے چےئرمین محمد یاسین ملک کو جمعرات کی علی الصبح گرفتارکرلیا گیا ہے۔ پولیس کی بھاری جمعیت نے جمعرات صبح سویرے یاسین ملک کے گھر کا گھیراؤ کیا اور ان کے گھر پر چھاپہ ڈال کرانہیں گرفتارکرلیا۔گرفتاری کے فورا بعد انہیں کو ٹھی باغ تھانے میں منتقل کیا گیا ہے۔ لبریشن فرنٹ کے ایک ترجمان نے یاسین ملک کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کی کال سے قبل ہی یاسین ملک کو گرفتار کرنااور دوسرے قائدین کو خانہ نظر بند کرلینا بھارتی جمہوریت کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ آوازخلق پرقدغینں عائد کرنا،پرامن جمہوری جد وجہد پر عتاب و عذاب نازل کرنا اور آئے روز قائدین کو پابند سلاسل کرنے والوں کو جمہوریت کے دعوے زیب نہیں دیتے کیونکہ اُن کے یہ جملہ اعمال جمہوریت کی بدترین پامالی ہیں ۔ پلوامہ، شوپیان،اور کولگام سمیت مختلف اضلاع میں فوج،فورسز اور پولیس کے کریک ڈاؤن، دوران محاصرہ لوگوں کی بلا تخصیص عمرو جنس مارپیٹ،گھروں کی توڑپھوڑ، جوانوں کی گرفتاری اور ٹارچر اور عزت والوں کی بے توقیری کے دراز سلسلہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ، فرنٹ نے کہا کہ بھارتی حکمران طبقہ اور اس سے وابستہ فسطائی ذہین سیاست کاروں کی آئے روز دھمکیا ں دینے کا سلسلہ ہو کہ ان کی فوج،فورسزاور پولیس کا دراز تر کیا گیا تشدد کا سلسلہ،قتل و غارت گری ہو کہ مکانات کو بارود و بم لگا کر اڑادینے کی بہادری ،کوئی بھی ظلم و جبر کشمیریوں کو اپنی مبنی برحق جدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتا ہے بلکہ یہ ظلم و جبر جہاں بھارتی جمہورت کے چہرے سے نقاب الٹ کر اُسے دنیا بھر میں رسوا کررہاہے وہیں پر اس سے کشمیریوں کے حوصلے مذید بلند اور عزائم مذید پختہ تر ہورہے ہیں ۔ لبریشن فرنٹ نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگ ایک مبنی برحق جدوجہد آزادی میں مصرف ہیں اور ظلم و جبر ،تعدی اور تعذیب کے خلاف یہ جائز اور پرامن مزاحمت و جد وجہد بہر صورت جاری رہے گی اور معصول منزل مقصود کی راہ میں ہر قسم کے مصائب و آلام کا مردانہ مقابلہ کیا جاتا رہے گا۔

Comments are closed.