پتھراوئو میں فوجی کی ہلاکت کے واقعہ میں ایف آئی آر درج کرائی، سخت کاروائی بھی چاہتے ہیں
نئی دہلی ، فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پتھراو¿ کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار کی موت واقع ہوجانے کے واقعہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کون کہتا ہے پتھربازوں کو جنگجوو¿ں کے اعانت کار نہ سمجھا جائے، ہم نے واقعہ کی ایف آئی آر درج کرائی ہے اور چاہتے ہیں کہ پتھربازوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوان پتھربازی کرکے اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ جنرل راوت نے کہا کہ پاکستانی فوجی دراندازوں کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے دراندازوں کی مدد جاری رکھی تو بھارتی فوج دوسرے آپشنز کو بروئے کار لاکر اپنی کاروائی انجام دے گی۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بھارتی فوج کی طرف سے کس طرح کی کاروائی کی جائے گی۔ فوجی سربراہ جنرل راوت ہفتہ کے روز یہاں ’انفینٹری ڈے‘ کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے ضلع اننت ناگ میں سری نگر جموں قومی شاہراہ پر 25 اکتوبر کی شام پیش آئے پتھراو¿ کے واقعہ جس میں ایک 22 سالہ فوجی اہلکار کی موت واقع ہوئی ، پر کہا ’ابھی آپ نے دیکھا کہ ایک پتھرباز نے بارڈر روڑس آرگنائزیشن کے قافلے کی حفاظت پر مامور فوجی کو نشانہ بنایا۔ بارڈر روڑس کس مقصد کے لئے وہاں ہے؟ یہ ہتھیار بند فوج نہیں ہے۔ بارڈر روڑس سڑکیں تعمیر کررہی ہے۔ پلوں کی تعمیر میں لگی ہوئی ہے۔ دوسرے تعمیری کاموں میں لگی ہوئی ہے۔ بارڈر روڑس آرگنائزیشن کے قافلے کو جنگجوو¿ں کے حملے سے بچانے کے لئے فوجی اہلکار اس کی حفاظت پر مامور تھا۔ اس جوان پر لوگوں نے پتھراو¿ کرکے اس کی جان لی‘۔ فوجی سربراہ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کون کہتا ہے کہ پتھربازوں کو جنگجوو¿ں کے اعانت کار نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا ’اب یہ کون کہتا ہے کہ جس نوجوان کے ہاتھ میں پتھر ہے ، اس کے ساتھ او جی ڈبلیو جیسا برتاو¿ نہ کیا جائے۔ اگر وہ پتھر سے ہمارے جوان کو مار سکتے ہیں ، تو کیا پتھرباز خود جنگجو نہیں بن رہے ہیں۔ اس لئے ہم انہیں کہنا چاہیں گے کہ پتھربازی سے کسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔ نقصان صرف پتھربازوں کا ہی ہورہا ہے‘۔ جنرل راوت نے کہا کہ فوج نے معاملے پر ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ انہوں نے کہا ’سب سے پہلے ہم نے ایف آئی آر درج کرائی۔ ہر وقت ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ جو پتھرباز اس طرح کی کاروائی کررہے ہیں، ہمارے جوانوں کو چوٹیں بھی لگتی ہیں، لیکن اس وقت ایک جوان کی موت ہوگئی۔ اگر کسی جوان کی پتھربازی سے موت ہوجاتی ہے تو ان نوجوانوں جنہوں ایسی کاروائی کی ہے، کے خلاف سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہیے‘۔ جنرل راوت نے کہا کہ پاکستانی فوجی دراندازوں کی مدد کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’پاکستان کی طرف سے دراندازی لگاتار جاری ہے۔ کیمپوں میں جنگجوو¿ں کو تربیت دی جارہی ہے۔ پاکستانی فوج ان کا مدد کرتی ہے۔ ہم پاکستان کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس سے صرف تمہارا نقصان ہوگا۔ ہم دراندازی روکنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ جو جنگجو دراندازی کرنے میں کامیاب ہوگیا، ہم اسے اندر ختم کریں گے‘۔ جنرل راوت نے کہا کہ اگر پاکستان نے دراندازوں کی مدد جاری رکھی تو بھارتی فوج دوسرے آپشنز کو بروئے کار لاکر اپنی کاروائی انجام دے گی۔ انہوں نے کہا ’لیکن اگر اس طرح کا ماحول بنا رہا اور پاکستان کی طرف سے دراندازوں کی حمایت جاری رکھی گئی تو ہمارے پاس دوسرے آپشن بھی ہیں۔ ہم کوئی دوسری طرح کی کاروائی بھی کرسکتے ہیں۔ اچھا یہ ہوگا کہ پاکستان خود سمجھ جائے کہ اس کاروائی سے نقصان صرف پاکستان دیش کو ہورہا ہے۔ اگر اس طرح کی کاروائی جاری چلتی رہی ، ہمیں دوسری طرح کی کاروائی کرنی پڑے گی اور ہم وہ کرنے میں نہیں ہچکچائیں گے‘۔ یو اےن آئی
Comments are closed.