شہر سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں تقریب کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات  جگہ جگہ پہ چیکنگ اور تلاشی کا عمل تیز

سرینگر//آزادی کی سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو ٹالنے کیلئے پوری وادی میں حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ بخشی اسٹیڈیم کے اردگرد شارپ شوٹرس کی تعیناتی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ ایک درجن کے قریب چیک پوسٹ قائم کئے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق کسی بھی شخص کو امن میں رخنہ ڈالنے اور لوگوں کے جان ومال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کئے گئے ہیں۔یو پی آئی کے مطابق یوم آزادی کی تقریبات کے دوران عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو ٹالنے کیلئے ریاست میں بالعموم اور وادی میں بالخصوص حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ بخشی اسٹیڈیم کے ارد گرد سیکورٹی ایجنسیوں نے تین دائروں والی سیکورٹی کے اقدامات اٹھائے ہیں ۔ ریاست میں سب سے بڑی تقریب بخشی اسٹیڈیم سرینگر میں منعقد ہوگی جہاں ریاست کی خاتون وزیرا علیٰ مارچ پاسٹ پر سلامی لے گی اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرئینگی ۔ بخشی اسٹیڈیم کے اردگر دتمام گلی کوچوں ، راستوں اور شاہراؤں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ بخشتی اسٹیڈیم کے اردگرد کئی رہائشی مکانوں کو پولیس وفورسز نے اپنی تحویل میں لے کر ان میں بینکر قائم کئے ہیں ۔ شارپ شوٹرس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ، بخشی اسٹیڈیم تک پہنچنے کیلئے دو درجن چیک پوسٹ قائم کئے گئے ہیں جموں وکشمیر پولیس کے ایک سینئر آفیسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوم آزادی کی تقریبات کے دوران عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو ٹالنے کیلئے پوری ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ مذکورہ پولیس آفیسر کے مطابق خفیہ اداروں نے اطلاعات فراہم کیں ہیں کہ تقریبات کے دوران عسکریت پسند وں نے حملوں کے منصوبے بنا ئے ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رسک بھی نہیں لی جا سکتی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق لوگوں کے جان ومال کی حفاظت اور امن وامان میں رخنہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور آزادی کی سالگرہ کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی تقریبات کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے کے ضمن میں کارگر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ادھر 14اگست سہ پہر کے بعد پوری وادی میں بازار سنسان اور سڑکیں ویران دکھائی دے رہی تھی ، سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں میں درس و تدریس کا سلسلہ بند ہوا ، سڑکوں پر مسافر بردار گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑگیا ، بہت کم تعداد میں لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے سرکاری اداروں میں بھی حاضری برائے نام دکھائی دے رہی تھی ، بینکوں اور پیٹرول پمپوں میں بھی کام متاثر ہوا ۔ خوف و دہشت کا عالم جگہ جگہ پایا جا رہا تھا پوری وادی میں پولیس وفورسز کی گشت بڑھا دی گئی تھی اور سڑکوں پر پولیس وفورسز کی جانب سے نجی اور مسافر بردار گاڑیوں کو روک کر ان کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی تھی ۔ پولیس اسٹیشنوں، فورسز کیمپوں ، سرکاری عمارتوں ، عام شاہراؤں ، سیاسی لیڈروں کے ارد گرد حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے ۔ آزادی کی سالگرہ کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی جگہوں کے ارد گرد بھی حفاظت کے سخت اقدامات اٹھائے گئے تھے لوگوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کئے گئے تھے وادی کشمیر میں لوگ زیادہ تر اپنے گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے ۔ (یوپی آئی)

Comments are closed.