آسیہ ،نیلوفر کی9ویں برسی

شوپیان ضلعے میں ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم ،انصاف کیلئے دھرنوں کا اہتمام

شوپیان:۲۹،مئی:کے این این/ جنوبی ضلع شوپیان میں منگل کے روز آسیہ اور نیلو فر کی 9ویں برسی پر مکمل ہڑتال رہی ،جسکے نتیجے میں ضلع بھر میں معمولات زندگی کی مفلوج ہو کر رہ گئے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق شوپیان میں آسیہ اور نیلو فر کی نویں برسی کے موقعے پر منگل کے روز مکمل ہڑتال رہی ۔ہڑتال کی کال مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی ۔ نمائندے کے مطابق مزاحمتی قیادت کی کال پر ضلع بھر میں منگل کو تما م دکانات ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔ ہڑتال کے نتیجے میں سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند رہے جسکی وجہ سے یہاں ہو کا عالم دیکھنے کو ملا۔تاہم سڑکوں پر اکا دکا نجی گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھی گئیں ۔ سنہ2009میںآسیہ ۔نیلو فر کی مبینہ طور پر عصمت ریزی کے بعد قتل کیا گیا تھا ،اس واقعہ کے حوالے سے فورسز پر الزام عائد تھا۔دونوں قریبی رشتہ دار خواتین کی نعشیں نالہ رنبی آرا سے برآمد کی گئی تھیں۔ اس واقعہ کے خلاف وادی بھر میں احتجاجی لہر چھڑ گئی تھی ،جو کئی روز جاری رہی جبکہ شوپیان میں مسلسل دو ماہ تک ہڑتال رہی تھی ۔واقعہ کے حوالے سے ریاستی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی تحقیقات مکمل کی جسکے بعد یہ کیس مرکزی تفتیشی ادارہ ’سی بی آئی‘ کو سونپ دیا گیا ۔ مذکورہ ادارے نے عصمت ریزی کے خدشات کو یکسر مستر د کرتے ہوئے کہا کہ دونوں خواتین کی موت نالہ میں ڈوبنے سے ہوئی ۔تاہم مقامی لوگوں نے سی بی آئی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ قصورواروں کو بچانے کیلئے من گھڑت کہانی رچی گئی۔واضح رہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے ضلع شوپیان کے نواحی علاقوں میں تمام کاروباری ادارے اور دفاتر بند رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے آسیہ اور نیلوفرکو قتل کرنے کی گھناؤنی واردات کے خلاف مکمل ہڑتال کرنے کے لئے کہا تھا۔ مشترکہ قیادت نے اس سانحہ کو ایک المناک واقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسیہ اور نیلوفر کو انتہائی بے دردی کے ساتھ اغوا کرکے جنسی زیادتیوں کے بعد قتل کرنا کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ مشترکہ قیادت نے فوج اور نیم فوجی دستوں کی طرف سے ریاست کے اطراف واکناف میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث اپنے اہلکاروں کو عدالت کی کٹہریوں میں کھڑا کرنے کے بجائے انعامات سے نوازے جانے کی پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وادی پوش اہلکاروں کو ایف آئی آر درج کرنے سے مستثنیٰ رکھنا اور شک کی بنیاد پر قتل کرنے پر مواخذہ سے بری کردینا کہاں کا انصاف اور انسانیت ہے۔ اس دوران کئی مقامات احتجاجی دھرنوں کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ان دھر نوں کے دوران شمعیں جلا کر آسیہ اور نیلوفر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

Comments are closed.