سی پیک سے کشمیر پر چین کا موقف متاثر نہیں ہوگا

بھارت اور پاکستان امن مذاکرات کے ذریعے دیرینہ تنازعات کا حل تلاش کریں :ہوا چن ینگ

سرینگر:۲۹،مئی:کے این این/ گلگت بلتستان پر لب کشائی کرنے سے احتراض کرتے ہوئے چین نے واضح کیا ہے کہ چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر سے کشمیر کے مسئلے پر اُنکے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے کہا کہ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کو امن مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے باہمی دیرینہ تنازعات کا حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ چین امن مذاکرات کی بحالی کیلئے تعاؤن دینے کیلئے بھی تیار ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق چین نے مسئلہ کشمیر کو امن مذاکرات اور مفاہمتی عمل سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہند وستان اور پاکستان کو دیرینہ تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے ۔منگل کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا موقف اصولوں پر مبنی اور واضح ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے کہا’کشمیر پر چین کا موقف اصولی اور واضح ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس تاریخی مسئلے کو دونوں فریقوں کی جانب سے مناسب طور پر مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر سے کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاع، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں معمول کا تعاون برقرار ہے۔اس سے قبل گذشتہ سال دسمبر کے مہینے میں چین نے اقتصادی راہداری منصوبے میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کو شمولیت کی پیشکش پر انڈیا کے رد عمل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔تاہم اس نے کہا تھا کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ تیسرے فریق کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں متعارف کرنے کے امکانات پر فیصلہ پاکستان سے مشاورت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری46 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی کا کہنا تھا کہ سی پیک میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی شمولیت پر انڈیا کواعتراض ہے اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافی معاملات میں شامل ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ پاکستان کی جانب سے گلگت ۔بلتستان کو مزید اختیارات دئے جانے کے اعلان پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ۔انہوں نے اس معاملے پر براہ راست ردِ عمل ظاہر کرنے سے احتراض کیا ۔21مئی کو پاکستان کی مرکزی حکومت نے گلگت بلتستان اصلاحات 2018کی منظوری دی اور صوبائی حکومت کو مزید اختیارات دیئے گئے۔یہ اعلان وزیر قانون اورنگزیب خان اور اطلاعات کے بارے میں وزیراعلیٰ کے مشیر شمس میر نے گلگت میں مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ نئی اصلاحات کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان اسمبلی رکھ دیا گیا ہے۔اسمبلی ملک کی صوبائی اسمبلیوں کی طرح تمام معاملات پر قانون سازی کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کونسل اب مشاورتی ادارے کے طور پر کام کرے گی۔اصلاحات کے تحت گلگت بلتستان کو ایکنک این ایف سی اور دیگر وفاقی اداروں میں خصوصی نمائندگی دی گئی ہے۔چیف کورٹ گلگت بلتستان کا نام گلگت بلتستان ہائی کورٹ رکھ دیا گیا ہے اور رکن ججوں کی تعداد پانچ سے بڑھا کر سات کردی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اب پاکستان کی ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں اپنے مقدمے لڑ سکتے ہیں۔بھارت نے پاکستان کے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ1947سے ہی گلگت بلتستان بھی جموں وکشمیر کی طرح بھارت کا اٹوک انگ ہے ،جس پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے ۔تاہم پاکستان نے اس دعویٰ کو یکسر مسترد کیا تھا ۔

Comments are closed.