کشن گنگا پروجیکٹ ، پاکستان کا 4 رکنی وفد واشنگٹن پہنچاگیا ، مذاکرات شروع

پاکستان نے اعتراضات سے عالمی بینک کو آگاہ گیا ، کچھ اہم دستاویزات بھی پیش کئے گئے

سرینگر /22مئی / بھارت کی جانب سے دریائے نیلم/کشن گنگا پر پانی کے بہاؤ کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے افتتاح کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے آبی تنازع پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستانی حکام عالمی بینک سے رابطوں میں مصروف ہیں۔اسی دوران عالمی بینک نے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے تمام تحفظات پر سنجیدہ سے غور کیا اور توقع ہے کہ جلد ہی اس پر کوئی فیصلہ سنا یا جائے گا ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق کشن گنگا پروجیکٹ پر عالمی بینک سے رجوع کرنے کے بعد عالمی بینک اور پاکستان کا 4 رکنی وفد مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچا، جس کے بعد دوطرفہ مذاکرات ہو ئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے وفد نے عالمی بینک کے سامنے کشن گنگا پروجیکٹ کے حوالے سے اعتراض سے ورلڈ بینک کے افسران کو آگاہ کیا گیا اور کہ یہ آبی تنازع اگر حل نہیں ہوتا تو پاکستان کو اس کے تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عالمی بینک کے ایک عہد دار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے کشن گنگا پروجیکٹ کے حوالے عالمی بینک کو آگاہ کیا ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ عالمی بینک نے پاکستان کے تمام اعتراضات پر غور کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اس معاملہ کی طرف توجہ دی جائے گی ۔ دوسری جانب پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے اس بارے میں میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔یہ مذاکرات 4 اہم نکات کے گرد گھومتے ہیں، جن میں کشن گنگا دریا پر قائم ہونے والے ڈیم کی اونچائی، اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی حد، پاکستان کا تنازع کو حل کرنے کے لیے ثالثی عدالت کے قیام کا مطالبہ اور اس کے جواب میں بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ماہرین سے مدد لینے کا مطالبہ شامل ہے۔تاہم یہاں یہ بات واضح رہے کہ 20 دسمبر 2013 کو ہیگ کی ثالثی عدالت کی جانب سے دیئے گئے فیصلے کی دستاویزات میں دریاؤں کی حفاظت کے لیے پاکستانی کی کوششوں کا تعین کیا گیا تھا۔حتمی اعزاز کے نام سے موجود ثالثی عدالت کی اس دستاویز میں 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی گائیڈ لائن کے ذریعے کشن گنگا تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔حتمی اعزاز کا یہ تعین کیا گیا تھا کہ بھارت کم از کم 9 کیوبک میٹر فی سیکنڈ (کمک) پانی دریائے نیلم میں داخل کرے گا جو ہمہ وقت کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ (کے ایچ ای پی) سے کم ہوگا، جبکہ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا تھا کہ بھارت یا پاکستان دریائے نیلم پر پانی کے رخ کی تبدیلی کے پہلے 7 سال بعد انڈس واٹر کمیشن یا پھر سندھ طاس معاہدے کے طریقہ کار کی مدد سے اس فیصلے پر دوبارہ غور طلب کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے 2010 میں بھارت کے خلاف ثالثی عدالت میں سماعت کے لیے رجوع کیا گیا اور درخواست کی گئی تھی کہ عدالت سندھ طاس معاہدے کے تحت کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ (کے ایچ ای پی) کی اجازت کا تعین کرے۔خیال رہے کہ کے ایچ ای پی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے کشن گنگا ڈیم کی جانب سے پانی کا رخ بونر نالہ کی جانب موڑا گیا اور بھارت کی جانب سے سرنگوں کا ایک نظام تیار کیا گیا جو پانی کی ٹربائن کو طاقت فراہم کرکے 330 میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔تاہم پاکستان کی جانب سے اس رخ موڑنے کی منصوبہ بندی کی اجازت کو چیلنج کیا گیا کیونکہ اس سے کے ایچ ای پی کے بعد تعمیر ہونے والے نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ (این جے ایچ ای پی) پر اثر پڑے گا

Comments are closed.