گاوں لوٹنے سے ڈر رہی ہے کٹھوعہ آبروریزی متاثرہ کی ماں ، کہا: ملزمین رہا ہوتے ہی ہمیں جان سے مار دیں گے
جموں: بانیہال میں نیلے رنگ کے خیمہ میں لیٹی فاطمہ ( تبدیل شدہ نام ) آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اکثر سوچتی ہے کہ چھ مہینے بعد کیا وہ اپنے گاوں راسنا لوٹ پائے گی ۔ راسنا ، کٹھوعہ ضلع کا وہی گاوں جہاں اس کی 8 سال کی بیٹی کو یرغمال بناکر کئی دنوں تک اس کی آبروریزی کی گئی اور پھر اس کا قتل کردیا گیا ۔بچی کی آبروریزی کے بعد جو کچھ بھی ہوا ، فاطمہ اس سے خود کو دھوکہ کھائی ہوئی محسوس کرتی ہیں ، اسے لگتا ہے کہ جذباتی طور سے وہ ٹوٹ گئی ہے اور برسوں تک اس کے پڑوسی رہے لوگوں نے اس کو دھوکہ دیا ہے۔
سپریم کورٹ میں پیر کو کٹھوعہ آبروریزی اور قتل کیس کی سماعت ہوگی ۔ اس معاملہ میں متاثرہ اور ملزم دونوں ہی فریق کی طرف سے عرضی داخل کی گئی ہے۔ فاطمہ چاہتی ہے کہ معاملہ کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں ہو اور ملزموں کو پھانسی کی سزا ملے۔ دوسری طرف ملزموں کا کنبہ چاہتا ہے کہ اس معاملہ میں سی بی آئی از سر نو جانچ کرے۔ ملزموں کے اہل خانہ کو جموں کے کئی وکیلوں ، لیڈروں ، سماجی تنظیموں کی حمایت بھی مل رہی ہے۔
گاوں لوٹنے سے ڈر رہی ہے کٹھوعہ آبروریزی متاثرہ کی ماں ، کہا: ملزمین رہا ہوتے ہی ہمیں جان سے مار دیں گے
فاطمہ کا کنبہ اور ان کے بکروال برادری کے کئی لوگ گزشتہ ماہ راسنا چھوڑ کر وادیوں کی طرف چلے گئے ۔ اس برادری کے لوگ چھ مہینے کیلئے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کو لے کر وادیوں کی طرف چلے جاتے ہیں اور سردیاں شروع ہوتے ہی اپنے گاوں واپس لوٹ آتے ہیں۔ چھ ماہ باہر رہنے کے دوران وہ پیر پنجال علاقہ کے کئی مقامات پر جاتے ہیں ۔ تاہم ان کا پہلا ٹھکانہ بانیہال ہے جو جموں اور کشمیر کو جوڑنے والی ٹنل سے تقریبا 2.5 کلو میٹر دور ہے۔
فاطمہ روتے ہوئے کہتی ہے کہ راسنا میں جہنم جیسی زندگی ہوگئی تھی ، میری بچی کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے گھومتا رہتا تھا، میں اس سے پریشان ہوجاتی تھی ، اس لئے ہم نے وقت سے پہلے ہی گاوں چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ فاطمہ کو روتا ہوا دیکھ کر بکروال برادری کی کچھ خواتین بھی وہاں آجاتی ہیں ، لیکن ان کو خاموش کرانے کی کوئی بھی ہمت کرپاتی ہیں۔
وہ چیختے ہوئے کہتی ہیں کہ میری بیٹی کے ساتھ اتنا گندہ کام کرنے والے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کررہے ہیں ، سانجھی رام ، دیپو ، ان کے وکیل اور یہاں تک کہ ملزموں سے جڑی ہوئی خواتین سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کررہی ہیں ، کس لئے ؟ کیا ان کو اس بات کا صدمہ نہیں لگا ہے۔
روتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ کیا انصاف مانگنے کا میرا حق نہیں ہے ، میں وہ ہوں ، جس کا سب کچھ چھن گیا ہے ، میری ننہی سی بیٹی مجھ سے چھین لی گئی ہے۔ نیوز 18 سے بات چیت میں وہ کہتی ہیں کہ کچھ لوگ ہمیں انصاف نہ ملے ، اس کیلئے کوششیں کررہے ہیں ، میں یہ سوچ کر ڈر جاتی ہوں کہ اگر ملزم جیل سے چھوٹ گئے تو ہمارا کیا ہوگا ، وہ لوگ ہمیں کبھی واپس لوٹنے نہیں دیں گے ۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر وہ لوگ آزاد ہوگئے تو وہ ہم چاروں کو ، مجھے ، میرے شوہر اور ہمارے دو بچوں کو گولی مار دیں گے۔ (News18 Urdu)
Comments are closed.