مرکزی حکومت مسلمانوں کی ترقی کے تئیں سنجیدہ /مختار عباس نقوی کا دعویٰ

ابھی مسلمانوں کے لئے بہت کچھ کیا جانا باقی

سرینگر/24 اپریل: بھارت میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے مرکزی سرکار سنجید ہ ہے کی بات کرتے ہوئے اقلیتی وزیر نے دعویٰ کیا کہ تمام مسلم علاقوں میں ترقی کیلئے کام جاری ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نیوز 18 اردو سے خصوصی بات چیت میں اقلیتی وزیرمختار عباس نقوی نے دعویٰ کیا کہ حکومت مسلمانوں کی ترقی کے تئیں سنجیدہ ہے اور ان اضلاع کی ترقی کے لئے کام کئے جا رہے ہیں۔ اعداد وشمار سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ مسلمان بہت پسماندہ ہیں اور ان کو آگے بڑھانے کے لئے ماضی میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی گئی۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ تاہم ہماری حکومت کی طرف سے کوشش جاری ہے، لیکن وہ بھی ناکافی ہے۔ ابھی مسلمانوں کے لئے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ مسلمانوں کو جذباتی اور اشتعال انگیز مدعوں میں الجھانے کے بجائے انہیں مین اسٹریم میں لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نکسل زدہ سکما ضلع سے بھی زیادہ پسماندہ مسلم اکثریتی اضلاع ہیں۔ لہذا وزیر اعظم نریندر مودی نے ان تمام اضلاع میں بغیر کسی بھید بھاو کے کام کرنے کو کہا ہے اور مودی حکومت اس معاملہ میں سنجیدہ ہے۔خیال رہے کہ 2006 میں سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد مسلمانوں کی پسماندگی پر مہر ثبت ہوگئی تھی۔ مگر اس کے بعد سے اب تک صرف اور صرف سیاست ہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے آج 12 سال گزر جانے کے بعد بھی نیتی آیوگ نے پسماندہ اور بیک ورڈ اضلاع کی جو فہرست جاری کی ہے ، اس میں سب سے نچلی پائیدان کے 20 اضلاع میں سے 11 مسلم اکثریتی اضلاع ہیں۔ مسلم دانشوروں اور لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومتوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ تو لیتی رہی ہیں ، لیکن ان کیلئے انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ جبکہ کئی دانشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان حالات کیلئے مسلمان خود بھی ذمہ دار ہیں۔

Comments are closed.