مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ،کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا موقعہ دیا جائے /وزیر اعظم پاکستان
خطے میں امن و سلامتی کے لیے پرامن انداز سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے
سرینگر/22اپریل /سی این آئی پاکستان نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا۔اسی دوران لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کیلئے کوششوں کا خیر مقدم کیا اور وہ تنازعہ کشمیر سمیت تمام مسائل پرامن طور پر حل کرنے کے خواہاں ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق اسلام آباد پاکستان میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مسئلے کے پرامن حل کیلئے اس خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ پرعزم ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کیلئے تیار ہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں اور انہیں صرف مسئلہ افغانستان کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مسئلہ بلاشبہ پاکستان کیلئے باعث تشویش ہے اور اس کے حل کیلئے ہم نے بہت کچھ کیا ہے اور اسے شکست دی ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ وہ میرانشاہ کا دورہ کریں اور خود اس بات کا مشاہدہ کریں کہ پاکستان کہ فوج نے کس طرح دہشت گردی کیخلاف جنگ میں عظیم قربانیاں پیش کرتے ہوئے علاقے کو کلیئر کیا ہے۔لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کیلئے کوششوں کا خیر مقدم کیا اور وہ اس مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنے کا خواہاں ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہے کہ بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات بنے رہیں۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ستر سال بیت گئے، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے تاہم بھارت پاکستان کے خلاف آج بھی بچگانہ حرکتیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے پرامن انداز سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو یقینی بنا کر پر امن انداز سے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔
Comments are closed.