کھٹوعہ معاملہ :شمال و جنوب میں طلبہ ، سماجی تنظیموں اور دیگر انجمنوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری

احتجاجی طلاب اور فورسز کے مابین پُر تشدد جھڑپیں ،ٹیر گیس شلنگ ، پیلٹ فائرنگ ، درجنوں زخمی ،ترال میں ہڑتال

سرینگر/ 19اپریل/ سی این آئی / وادی کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں درس و تدرس معطل رکھنے کے باوجود جمعرات کو ایک مرتبہ پھر وادی کے اطراف و اکناف میں کھٹوعہ واقعہ میں ملوث افراد کو سز ا موت دینے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کے حق میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے بیچ فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان پُر تشدد جھڑپوں اوت ٹیر گیس شلنگ میں درجنوں طلبہ زخمی ہو گئے ۔ اسی دوران وادی سیاسی ، سماجی اور دیگر انجمنوں کی طرف سے کھٹوعہ معاملے کو لیکر احتجاجی مظاہرئے ہوئے جس دوران انہوں نے قاتلوں کو سز ا سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ادھر جنوبی قصبہ ترال میں طالبات کے خلاف فورسز کارروائی کے خلاف دوسرے روز بھی ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ سی این آئی کے مطابق طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اگرچہ انتظامیہ نے کئی کالجوں اور ہائیر اسکنڈری اسکولوں میں جمعرات کو درس و تدریس کا کام معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود مسلسل دوسرے روز بھی درجنوں تعلیمی اداروں میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے ساتھ ہی طلباء طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے احتجاجی مظاہرئے شروع کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلع شوپیان میں اگرچہ تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اگرچہ درس و تدریس کی سرگرمیاں معطل رکھی گئی تھی تاہم ایک مقامی کوچنگ سنیٹر میں زیر تعلیم طلبہ نے مین چوک شوپیان میں کھٹوعہ واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران انہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ قصبے میں ا س وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب علاقے میں تعینات فورسز اہلکاروں اور احتجاجی طلبہ میں جھڑپیں شروع ہوئی ۔ اسی دوران فورسز نے احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ کا استعمال کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ احتجاجی طلبہ اور فورسز کے مابین جھڑپوں میں ایک درجن طلبہ زخمی ہو گئے۔جن میں سے دو کو پیلٹ لگنے کے بعد ضلع اسپتال شوپیان منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں سرینگر منتقل کیا گیا ۔ادھر ضلع بارہمولہ میں بھی اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب طلبہ کی بڑی تعداد نے کھٹوعہ میں متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کے حق میں احتجاجی ریلی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلی میں شامل طلبا و طالبات آصفہ کو انصاف فراہم کروں ، قاتلوں کو پھانسی دو کے نعرہ بلند کر رہے تھے جس کے بعد انہوں نے سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر دھرنا دینے کی کوشش کی تاہم قصبے میں تعینات فورسز اہلکاروں نے ان کا راستہ روک لیا جس پر وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز پر سنگبازی کی جس کے جواب میں فورسز نے مشتعل طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔ ۔ادھر بانڈی پورہ سے ملی اطلاعات کے مطابق طلبہ کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکالی جس دوران انہوں نے طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے ا حتجاجی مظاہرے شروع کئے جس دوران مظاہرین نے اسلام وآزادی کے حق میں نعرہ باز ی کی ۔نمائندے نے عین شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ احتجاجی طلبہ جنہوں نے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اُٹھائے تھے مطالبہ کر رہے تھے آصفہ کے قاتلوں کو پھانسی دی جائے اور متاثرہ کنبے کو انصاف فراہم کیا جائے ۔معلو م ہوا ہے کہ اسی دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی جس دوران فورسز نے احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔ اسی دوران چاڈورہ سے بھی نمائندے نے اطلاع دی کہ ڈگری کالج میں معصوم آصفہ کے انصاف کے حق میں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان جھڑپوں میں کئی طلبہ زخمی ہو گئے ہیں ۔ ادھر کپواڑہ میں بھی جسمانی طور نا خیز افراد نے احتجاج مظاہرئے کئے جس دوران انہوں نے معصوم آصفہ کو انصاف فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ۔ احتجاجیوں نے ہاتھوں میں پلے کار ڈ تھے، جن پر آصفہ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے مطالبے کو لیکر تحریریں درج تھیں۔ اسی دوران وادی کشمیر کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ریاستوں کے مختلف مقامات پر لوگوں نے معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اسی دوران اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں کل پیش آئے واقعہ کے بعد یونیورسٹی نے آج کے تمام امتحانات ملتوی کر دئے تھے جبکہ یونیورٹی میں درس و تدریس کی سرگرمیاں متاثر رکھی گئی تھی ۔ کشمیریونیورسٹی نے بھی آج لئے جانے والے تمام امتحانات کو ملتوی کر دیا تھا ۔ادھر ترال سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ قصبہ میں بدھ کو احتجاجی طالبات کیخلاف فورسز کے طاقت کے استعمال کے خلاف دوسرے روز بھی ہڑتال رہی جس دوران تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔

Comments are closed.