شوپیان میں فوجی کیمپ کو ہٹانے کے مطالبے کو لیکر احتجاج

سری نگر ، :جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پنجورہ اور پہنو نامی دو دیہات کے مکینوں نے منگل کے روز علاقہ میں قائم فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے کیمپ کو ہٹانے کے مطالبے کو لیکر شدید احتجاج کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ستمبر 2016 میں قائم کئے جانے والا یہ کیمپ مقامی آبادی کے لئے وبال جان بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ پہنو میں قائم اس کیمپ کے باہر 4 مارچ کو فائرنگ کا ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد ریاستی پولیس کو جائے وقوع سے ایک جنگجو اور چار عام شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ سبھی چار مہلوک عام شہریوں گوہر احمد لون، سہیل احمد وگے، شاہد خان اور شاہنواز وگے کی عمر 20 سے 25 برس کے درمیان تھی۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجو اور ان کے چار ہمرائی جاں بحق ہوئے۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجورہ شوپیان میں منگل کے روز سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مہلوک جنگجو سہیل احمد کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور پہنو میں موجود 44 آر آر کیمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بعض احتجاجی لوگ جلوس کی صورت میں منی سکریٹریٹ شوپیان پہنچے جہاں ان کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔بتادیں کہ فوج کی فائرنگ سے 4 عام شہریوں کی موت واقع ہوجانے کے خلاف جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں منگل کو دوسرے دن بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔

Comments are closed.