اُوڑی سیکٹرمیں جنگ جیسی صورتحال کیلئے پاکستانی فوج ذمہ دار:فوج

اوڑی۵۲،فروری اُوڑی سیکٹرمیں جنگ جیسی صورتحال کیلئے پاکستانی فوج کوذمہ دارٹھہراتے ہوئے فوج کے ایک اعلیٰ افسربریگیڈئروائے ایس اہلاوت نے واضح کیاہے کہ سرحدپارکی ہراشتعا ل انگیزی کامنہ توڑ جواب دیاجائیگا۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ بھرپورجواب دیکرپاکستانی فوج کوگولہ باری اورشلنگ بندکرنے پرمجبورکیاگیا۔کے این ایس نمائندے ندیم خواجہ کے مطابق سرحدی تحصیل اوڑی میں لائن آف کنٹرول کی نگرانی اورحفاظت پرمامورفوج کے اعلیٰ افسربریگیڈئروائے ایس اہلاوت نے اتوارکوخبردارکیاکہ پاکستانی فوج کی جنگ بندی خلاف ورزیوں کامنہ توڑجواب دیاجائیگا۔انہوں نے سنیچرکوحدمتارکہ پرپیداہوئی سنگین صورتحال کے بارے میں یہاں نامہ نگاروں کوبتایاکہ پاکستانی فوج نے بغیرکسی اشتعال کے سنیچرکی صبح حاجی پیرسیکٹرمیں جنب بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہماری چوکیوں کانشانہ بنانے کی کوشش کی جبکہ بقول فوجی افسرپاکستانی فوج نے آبادی والے سرحدی دیہات پربھی بے تحاشہ اندازمیں فائرنگ اورمارٹرشلنگ کی ،جسکے نتیجے میں ایک رہائشی مکان مکمل طورپرتباہ ہوگیا۔بریگیڈئروائے ایس اہلاوت کاکہناتھاکہ پاکستانی فوج کی بلااشتعال گولہ باری کابھرپوراندازمیں جواب دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ صورتحال کی نزاکت کوبھانپتے ہوئے کئی سرحدی علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پربچاﺅکارروائی عمل میں لاتے ہوئے شہریوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا۔بریگیڈئروائے ایس اہلاوت کاکہناتھاکہ پاکستانی فوج کی جانب سے کی جانے والے شدیدفائرنگ اورمارٹرشلنگ سے بچانے کیلئے شہریوں کاانخلاءعمل میں لایاگیا،اوریہ اسی بچاﺅکارروائی کانتیجہ ہے کہ شدیدنوعیت کی گولہ باری کے باوجودعام شہریوں کاکوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بریگیڈئروائے ایس اہلاوت کامزیدکہناتھاکہ ہماری فوج کی جانب سے منہ توڑجواب دینے کے بعدپاکستانی فوج نے فائرنگ اورشلنگ کاسلسلہ بندکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ بھرپورجواب دیکرپاکستانی فوج کوگولہ باری اورشلنگ بندکرنے پرمجبورکیاگیا۔بریگیڈئروائے ایس اہلاوت نے خبردارکیاکہ پاکستانی فوج کوجنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پرہمیشہ منہ توڑجواب دیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ سرحدی صورتحال میں بہتری آنے کے بعدنقل مکانی کرنے پرمجبورہوئے سبھی کنبوں کوواپس اپنے گھروں کی طاف جانے کی اجازت دی جائیگی ۔ادھر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے گولہ باری جاری رہنے کے پیش نظر کنٹرول لائن کے ساتھ مقیم آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے انخلاکا منصوبہ تیار کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ امکانی سرجیکل اسٹرائیک کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اس طرح کا فیصلہ لیا ہے۔ جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر لوگوں کو دوسری جگہ پر منتقل کرنے کیلئے منصوبہ تیار کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوجی سربراہ کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی دھمکیوں کے بیچ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کنٹرول لائن کے ساتھ مقیم آبادی کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کیلئے انخلا کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ فیصلہ بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہ رکنے کے باعث کیا گیا۔ اس ضمن میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ضلعی انتظامیہ اور ایل او سی سے ملحقہ علاقوں کے مقامی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ہزاروں افراد کو محفوظ علاقوں میں آباد کرنے کے حوالے سے ضروری انتظامات کریں جن کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔ذرائع کے مطابق کنٹرول لائن پر کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں انخلا کے منصوبے پرعملدر آمد شروع ہو جائے گا۔ ابتدائی طور پر بھارتی فائرنگ سے براہ راست متاثر ہونے والے دیہات کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا اور اگر جنگ بندیوں کی خلاف ورزیاں نہ رکیں تو انخلاءکی سرگرمیوں کا دائرہ سیکٹر کی سطح تک بڑھادیا جائے گا۔

Comments are closed.