سرحدی کشیدگی انتہائی خطرناک :میرواعظ

 سرےنگر: حریت کانفرنس (ع)نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کو اس پورے خطے کی مجموعی صورتحال کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین کشیدہ صورتحال کے خاتمہ کے لئے آگے آئیں۔کشمےر نےوز سروس کو حرےت(ع) کی طرف سے مو صولہ بےان مےں کہا گےا ہے کہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے سرحدوں پر رہ رہے ہزاروں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں اور سرحدوں پر جاری شدید گولہ باری کی وجہ سے نہ صرف آر پار قیمتی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے ، سرحدوں پر دہشت کا ماحول پید اہو گیا ہے ، لوگ محفوظ مقامات کا رُخ کررہے ہیں بلکہ دونوں جوہری مملکتوں کے درمیان موجودہ کشیدگی کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے دونوں ہمسایہ جوہری مملکتوں کے درمیان تناﺅ کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر رہا ہے اور جب تک اس مسئلہ کو یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا جاری کشیدہ صورتحال سے چھٹکارا بہت مشکل ہے ۔حریت کانفرنس (ع)نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ برصغیر کے ساتھ ساتھ پورے جنوبی ایشیائی خطے کو ممکنہ ایک تباہ کن جنگ سے بچانے اور اس خطے میں رہ رہے کروڑوں عوام کے سیاسی مستقبل کو لاحق خطرات سے بچانے کیلئے آگے آئیں اور مسئلہ کشمیر سمیت دیگر حل طلب مسائل کو حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کولیکر دونوں ممالک ماضی میں بھی کئی خونریز جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب کی بار دونوں ممالک کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی نے مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور حساسیت کو پوری شدت کے ساتھ اُجاگر کیا ہے اور ہماری اس تشویش کو صحیح ثابت کیا ہے کہ کہیں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اور تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ثابت تو نہیں ہوسکتا۔بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے خطرات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت سیاسی جرا ¿تمندی ، دوراندیشی اور بصیرت کا مظاہرہ کرکے مسئلہ کشمیر کو جس قدر جلد ممکن ہو سکے اس کے حل کیلئے راہیں تلاش کریں تب جاکر اس خطے میں سیاسی استحکام اور امن کی توقع کی جاسکتی ہے۔دریں اثنا حریت ترجمان نے حریت چیرمین میرواعظ کی ایک بار پھر خانہ نظر بندی ،انکی پر امن سرگرمیوں پر قدغن عائد کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ آئے روز کسی نہ کسی بہانے حریت چیرمین کی پر امن سرگرمیوں کو طاقت کے بل پر مسدود کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ حکمرانوں نے میرواعظ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی معاندانہ پالیسی اپنا رکھی ہے جو حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔

Comments are closed.