ہندوپاک دانشمندی کا مظاہرہ کریں :انجینئر رشید
سرےنگر: عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے ہندوپاک کی قیادت سے بالیدگی و سنجیدگی کے اظہار کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل اور سی اور سرحدوں پر روز روز کی گولہ باری بند کی جانی چاہیئے۔اس دوران انہوں نے سرحدی عوام کی متبادل رہائش کیلئے انہیں زمین کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات فراہم کئے جانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہر وقت موت کے سائے میں رہنے والے ان لوگوں کے بارے میں ترجیحی بنیادوں پر سوچا جانا چاہیئے۔ مو صولہ بےان کے مطابق ممبر اسمبلی لنگےٹ اور عوامی اتحاد پارٹی کے سر براہ نے کہا کہ ریاست کے کسی بھی حصے کے سرحدی مہاجرین کے بارے میں انسانی بنیادوں پر سوچتے ہوئے انکی باز آبادکاری کے فوری اقدامات کئے جانے چاہیئں۔انجینئر رید نے آج یہاں کا دورہ کرکے ہندوپاک افواج کے مابین ہورہی گولہ باری کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے لوگوں کے ساتھ ملاقات کی اور انکی مشکلات کے بارے میں جانا۔اس موقعہ پر موجود نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو جنگ کوئی کوئی حل نہیں مانتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہندوستان میں کوئی بھی شخص وزیر اعظم مودی کو یہ بتانے کی ہمت نہیں جٹا پارہا ہے کہ فساد کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے جس نے نہ صرف دونوں ممالک ،باالخصوص کشمیر میں،آدم خور دیو کی صورت اختیار کی ہوئی ہے بلکہ اس سے پورے بر صغیر کا امن تباہ ہوکے رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دانشمندانہ آوازوں کو وزیر اعظم کے سامنے بتانا چاہیئے تھا کہ آدم خور دیو بن چکے اسی مسئلہ کشمیر کی وجہ ایل او سی کے آر پار کتنے ہی لوگ مارے جاچکے ہیں اور دوسری جانب اسی بہانے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہزاروں کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ وہ لوگ، کہ جنکی صدائیںمعنیٰ رکھتی ہیں اور سنی جاتی ہیں،مذمتی یا دھمکی آمیز بیانات تک خود کو محدود کرچکے ہیں جبکہ دوسری جانب عام لوگ،فوج و فورسز اہلکار اور جنگجو ہمہ وقت افراتفری اور غیر یقینی صورتحال سے نبردآزما رہتے ہیں۔اسلام آباد اور نئی دلی پر زور دیتے ہوئے انجینئر رشید نے انسے ،کشمیریوں کی خواہشات و جذبات و قربانیوںکے مطابق ،مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جنگجو قیادت اور منتخبہ نمائندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کیلئے کہا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کیلئے کشمیریوں نے زبردست قربانیاں دی ہیں لہٰذا اس مسئلے کو عوام کی خواہشات و جذبات کے مطابق ہی حل کیا جانا چاہیئے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار سیلی کوٹ،ہتلنگا،چرونڈا،تلواری، بالکوٹجیسےسرحدی دیہات، جہاں کی تقریباََ پوری آبادی کو ایل او سی پر لگی تاربندی کی دوسری جانب پھینک دیا جاچکا ہے، کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ سرحد پر آئے دنوں حلات کشیدہ رہتے ہیں لہٰذا یہاں کے لوگوں کو زیر زمین بنکر بناکے دئے جانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ انہیں قدرے محفوظ علاقوں میں رہائشی پلاٹ دئے جانے چاہیئں تاکہ وہ ہمہ وقت موت کے خوف کے سائے تلے رہنے پر مجبور نہ ہوجائیں۔اس دوران انجینئر رشید نے کہا کہ انکی زیر نگرانی قائم جوائینٹ ایفورٹ ٹرسٹ کی جانب سے گولہ باری سے متاثرہ ہوئے طلباءکیلئے کوچنگ کلاسز کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات دہرائی کہ تمام تر مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم کسی بھی چیز کا انتظار کرسکتے ہیں لیکن تعلیم کو اولین ترجیح دی جانی چاہیئے اور اسکے حصول کیلئے مسائل کے حل اور حالات کی سازگاری کا انتظار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
Comments are closed.