بھارت پاکستان جنگ کے متحمل نہیں ،مذاکرات دونوں ملکوں کیلئے لازمی : ناصر خان جنجوا
سر ینگر::ایک ماہ 24دنوں کے دوران 335بار بھارت کی جانب سے جنگ بندی معا ہدے کی خلاف ورزی کر نے کا دعویٰ کرتے ہو ئے پاکستان کے قو می سلا متی مشیر نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ما بین مسا ئل کو حل کر انے کیلئے بات چیت کے سوا اور کو ئی چا رہ نہیں ۔ما ضی میں دو نوں مما لک نے جنگوں کو بھی آزما یا ہے اور مستقبل میں جنگیں لڑ نے کے متحمل بھی نہیں ہے ۔بھارتی فو ج کے سر برا ہ کے بیا نات اشتعال انگیز ہونے کے با وجود پا کستان نے صبرکا دامن نہیں چھوڑا ہے ۔
اے پی آ ئی کے مطا بق اسلام آ باد میں یو نیور سٹی کی جا نب سے منعقد کئے گئے سمینار سے خطاب کر تے ہو ئے پا کستا نی قو می سلا متی کے مشیر نا صر خان جنجوانے بھارت پاکستان کے مابین بات چیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک نہ تو جنگ کے متحمل ہیں اور نہ ہی زیادہ دیر تک آپس میں کشیدگی برقرار رکھنے کے رورادار ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ 1947سے لےکر 1999تک دونوں ملکوں کے مابین کئی جنگیں ہوئی اور دونوں ممالک کے پلے کچھ بھی پڑا ۔
پاکستان کے قومی سلامتی مشیر نے بھارت کو بڑا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے نہیں ہچکچانا چاہیے ۔ پاکستان کو مضبوط و مستحکم ملک قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہماری خاموشی اور مذاکرات کی دعوت کو کسی اور ترازوں سے نہ تولا جائیں ۔پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کر سکیں تاہم انہوںنے خطے میں امن ،ترقی اور خوشحالی دونوں ممالک کیلئے لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اشتراکیت کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے اور بھارت پاکستان ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔
انہوںنے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انتہا پسندی صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں اسے زیادہ انتہا پسند ہیں جو پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے کیلئے اب بھی تیار نہیں ہے ۔ایسے عناسر کی کارستانیوں سے ہی دونوں ممالک کی سیاسی قیادت سخت فیصلے لینے سے کترارہی ہے ۔ بھارت کی جانب سے رواں برس کے ایک ماہ 24دنوں کے دوران 335بار جنگ بندی معاہدے کی خلا ف ورزی کاانکشاف کرتے ہوئے قومی سلامتی مشیر نے کہا کہ بھار ت کی فوج کی جانب سے گولہ بھاری کے دوران 15افراد جن میں فوجی جوان بھی شامل ہیں مارے گئے اور 65افراد زخمی بھی ہوئے ۔
انہوںنے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات فوجی جوان اور عام شہری بھی مارے گئے ،دونوں ممالک کب تک خون بہاتے رہیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کشیدگی اور تناو ¿ کے ماحول کو ختم کر کے بامعنیٰ ،نتائج خیز مذاکرات شروع کئے جائیں اور جتنے بھی مسائل ہیں ان پر کھل کر بات کی جائیں اور ان کے حل کیلئے مرحلہ وار طریقے سے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ دہشت گردی کو دونوں ممالک کیلئے ناسور قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اس بدعت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے موثر اقدامات اٹھا نے کی ضرورت ہے ۔
Comments are closed.