لائن آف کنٹرول پر جنگ کا سماں
اوڑی۴۲،فروری لائن آف کنٹرول پر جنگ کا سماں پےدا ہو نے کے بےچ بھارت اور پاکستان کی افواج نے حاجی پےر اور نکےا ل سےکٹر مےں توپ کھانوں کے دہانے کھول دئے ۔سنےچر کی صبح شدےد نوعےت کی ماٹر شلنگ اور توپ کے گولوں کی بارش کے نتےجے مےں آر پار اےک در جن سے زےادہ رہائشی و غےر رہائشی عمارات زمےن بوس ہو گئی ،جبکہ نکےال سےکٹر مےن فائرنگ و شلنگ کی زد مےں آکر اےک شہری از جان اور دےگر کئی زخمی ہو گئے ۔پاکستانی فوج کی جانب سے لا وڈ اسپےکروں کے زرےعے جنگی نو عےت کے اعلانات کے بعد اوڑی کے سر حدی علاقوں مےں افراتفری اور بھاگم بھاگ کی صورتحال پےدا ہو ئی اور ہنگامی طور پر تقرےباً150سے زےادہ افراد کو نحفوظ مقامات پر منتقل کےا گےا ارنکل مکانی کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران آر پار کی سےول اور پولےس انتظامےہ نے سر حدی علاقوں مےں ہنگامی صورتحال کا بغل بجاتے ہو ئے شہرےوں کے انخلا کا عمل بڑے پےمانے پر شروع کر دےا ہے ۔ کشمےر نےوز سروس کے مطابق ہندو پاک افواج کے در مےان جموں کے سر حدی علاقے سچےت گڑھ مےں فلےگ مےٹنگ کے باو جود سنےچر کو اوڑی کے حاجی پےر،تلواری ،سلی کوٹ اورچرانڈا کے سر حدی علاقوں مےں ہندو پاک افواج نے اےک دو سری کی چوکےوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے شدےد گولہ باری کا تبادلہ کےا اور اس دوران شدےد نو عےت کی توپ اور مارٹر گولوں کی شلنگ کی گئی جس کے نتےجے مےں حد متارکہ کے آر پار رہائش پزےر آبادی مےں دہشت کی لہر دوڈ گئی ۔توپ اور مارٹرکے گولوں کی بارش کے نتےجے مےں آر پار اےک در جن سے زےادہ رہائشی و غےر رہائشی عمارات زمےن بوس ہو گئی۔معلو م ہوا ہے کہ سنےچر ی صبح سے ہی اوڑی کے ھاجی پےر ،چراندا ،سلی کوٹ ،تلواری کے علاقوں مےں پاکستانی فوج نے گولہ باری کا سلسلہ شروع کےا جو آخری اطلاعات مو صول ہو نے تک جاری تھی ۔تازہ گولہ بھاری سے بچنے کے لئے اوڑی کے ان سےکٹروں مےں کئی دےہات سے لوگوں نے نکل مکانی کی ہے ۔ادھر اطلاعات کے مطابق اوڑی مےں حد متارکہ پر پاکستانی زےر انتظام کشمےر کے سر حدی علاقوں سے لاوڈ اسپےکروں کے زرےعے کئے جارہے اعلانات اس پار سنے گئے جس مےں ان علاقوں مےں رہائش پزےر لوگوں سے کہا گےا کہ وہ علاقہ چھوڈ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائےں ۔حدمتارکہ پرہندوپاک افواج کے در مےان شدےد نو عےت کی گولہ باری کے بےچ اوڑی کے سرحدی علاقوں سے سنےچرکی صبح سے لگ بھگ150افرادنے نقل مکانی کردی“ ہے جبکہ ابھی بھی لوگوں کے محفوظ جگہوں پرمنتقل ہونے کاسلسلہ جاری ہے۔بتایاجاتاہے کہ اوڑی میں کئی سرحدی دیہات مکمل طورپر خالی ہوگئے ہیں ،اوراب متعلقہ پولیس وسیول حکام نقل مکانی کرچکے شہریوں کیلئے قیام وطعام کاانتظام کرنے میں مصروف ہیں ۔ادھر پاکستانی فوج نے اپنے اےک بےان مےں کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے نکےال سےکٹر مےں بھارتی فوج نے 12کلومےٹر دور گاﺅں پر شدےد شلنگ کی جس کے نتےجے مےں اےک شہری فاروق احمد جاں بحق ہو ا جبکہ دےگر 3افراد زخمی ہو ئے جنہےں علاج و معالجہ کے لئے اسپتال منتقل کےا گےا ۔ ادھر اوڑی کی انتظامےہ نے کئی سرحدی دیہات سے لگ بھگ700افرادکے محفوظ مقامات پرچلے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اعلیٰ سیول وپولیس حکام نقل مکانی کرنے والوں کیلئے لازمی سہولیات کابندوبست کررہے ہیں ۔جبکہ جمعہ کو ڈپٹی کمشنربارہمولہ ناصراحمدنقاش اورایس ایس پی بارہمولہ امتیازحسین نے متواتر فائرنگ وشلنگ کے بعدمحفوظ جگہوں پرمنتقل ہوئے کنبوں کے افرادکودرپیش مشکلات اوردرکارضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ کنٹرول کے نزدیک واقع لگ بھگ نصف درجن دیہات خالی ہوگئے ہیں کیونکہ ہندوپاک افواج کے درمیان حالیہ کئی دنوں سے شدیدگولہ باری اورمارٹرشلنگ کاتبادلہ جاری رہنے کے بعددرجنوں کنبے جان بچانے کیلئے محفوظ جگہوں پرمنتقل ہوچکے ہیں ۔معلوم ہواکہ جمعرات کودونوں افواج کے درمیان گولہ باری اورشلنگ کاشدیدتبادلہ ہونے کے دوران کئی مارٹرشل تلواری اوراسکے نواحی دیہات میں آگے جبکہ مکانات بھی شدیدفائرنگ اورشلنگ کی زدمیں آئے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ مارٹرشل اورگولیاں متعددمکانات کی دیواروں کوچیرتے ہوئے نکل گئے اورمعجزاتی طورپراس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع نے بتایاکہ سنےچر کوکئی آبادی والے علاقوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے داغے گئے مارٹرشل گرنے کے نتیجے میں سخت خوف وہراس کی صورتحال پیداہوئی اور تازہ شلنگ کے نتےجے مےں ان علاقوں مےں 5سے زےادہ تعمےراتی ڈھانچے منہدم ہو ئے ۔انہوں نے کہاکہ سوموارسے پاکستانی فوج نے فائرنگ اورشلنگ کاسلسلہ جاری رکھاہواہے ،جسکے باعث متاثرہ سرحدی دیہات میں عدم تحفظ کی لہردوڑ گئی اوربڑی تعدادمیں لوگ نقل مکانی کرنے پرمجبورہوگئے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ سرحدی دیہات سے نقل مکانی کرنے والے کنبوں کیلئے اوڑی قصبہ میں واقع گورنمنٹ گر لز ہائراسکنڈری اسکول میں ہنگامی کیمپ قائم کئے گئے جہاں نقل مکانی کرنے والوں کیلئے انتظامات کئے گئے ہےں ۔ذرائع کے مطابق سیول حکام نے اوڑی پہنچنے والے افرادکی رجسٹریشن کاکام شروع کردیاہے تاکہ اُن کے قیام وطعام کیلئے فوری اقدامات اُٹھائے جاسکیں ۔ ۔اس دوران معلوم ہواکہ ہائراسکنڈری اسکول اوڑی کے کلاس رومزکورہائشی کمروں میں تبدیل کیاگیاہے اوریہاں فرش بچھانے کے ساتھ ساتھ یہاں عارضی طورمقیم ہونے والے کنبوں کیلئے بستروں اورکملوںکاانتظام کیاگیاہے جبکہ اسکول کے احاطے میں ہی ایک لنگربھی چالوکیاگیاہے تاکہ نقل مکانی کرنے والے افرادکوکھانے پینے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں ۔
Comments are closed.