حد متارکہ پر جنگ کا سماں برقرار ،آر پار گولہ باری جاری

 سری نگر:شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں لائن آف کنٹرول کے اوڑی سیکٹر میں ہفتہ کے روزہند پاک افواج کے درمیان پھر گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو بتایا کہ پاکستان کی طرف سے فائرنگ کا آغاز دن کے گیارہ بجکر 50 کیا گیا اور موصولہ اطلاعات کے مطابق طرفین کے مابین گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے۔
 انہوں نے بتایا ’ہمارے فوجی سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کا موثر جواب دے رہے ہیں‘۔ ریاستی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے بتایا ’اوڑی میں پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورز کی گئی۔ فوج جواب دے رہی ہے‘۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہند و پاکستان کی فوجیوں کے مابین گولہ باری کا تبادلہ اوڑی کے حاجی پیر سیکٹر میں ہوا ہے۔ اوڑی سیکٹر میں سرحد پر کشیدگی کے پیش نظر 500 افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔
 ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے جمعہ کے روز یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا ’اوڑی میں سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کے پیش نظر 500 لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (بارہمولہ) از خود موقع پر موجود ہیں‘۔ واضح رہے کہ اوڑی میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی ایل او سی پر گذشتہ ایک ہفتے سے کشیدگی دیکھی جارہی ہے اور اس دوران پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک، تین عام شہری زخمی اور متعدد رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا۔
 سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے جمعرات کو اوڑی کے چارنڈا اور تلہ واری میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تھی جس کے نتیجے میں تین رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی پولیس نے احتیاطی طور پر چورنڈا، سلکوٹ، تلہ واری، تھجل اور سونی نامی دیہات کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ لوگوں کو مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں اور سرحدی دیہات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تاہم نقل مکانی کرنے والے لوگوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی طرف سے ان کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ 20 فروری کو پاکستان کی طرف سے ایل اوی سی کے ٹنگڈار سیکٹر میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں بارڈر سیکورٹی فورس کا ایک اہلکار جاں بحق ہوا۔
 اس سے قبل بارہمولہ میں ایل او سی کے حاجی پیر سیکٹر میں 19 فروری کو پاکستان کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت 3 عام شہری زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ رواں برس کے پہلے 40 دنوں کے دوران جموں میں ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر شدید کشیدگی دیکھی گئی تھی جس دوران قریب 20 شہری و فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1999 ءکے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ یو این آئی

Comments are closed.