سانحہ کنن پوش پورہ کی غیرجانبدارانہ جانچ کی جائے

سری نگر۳۲،فروری ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ”سانحہ کنن پوش پورہ کی غیرجانبدارانہ جانچ کی مانگ“کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیرمیں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کوحاصل استثنیٰ بلاجوازہے۔کے این ایس کے مطابق سرحدی ضلع کپوارہ میں 27سال قبل 23اور24فروری1991کی درمیانی رات ایک دور دراز گاو¿ں کُنن پوشہ پورہ میں فوج کی 4راجپوتانہ رائفلز اور 68مونٹین بریگیڈکے اہلکاروں نے بلالحاظ عمر درجنوں خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی ۔ کنن اورپوش پورہ مےں 27سال قبل دن کے اُجالے مےں اجتماعی جنسی تشدد کی چےخےں اور آہ و فغان آج تک خاموش نہےں ہوئی ہے بلکہ اس سانحہ مےں متاثرہ ہوئی خواتےن کے لئے آج بھی 23اور24فروری 1991کی وہ دردناک رات نہیں بھول پائی ہیں جب فوجی اہلکاروں نے انکی عزت کوتارتارکردیاتھا۔متاثرہ خواتےن کو جب آج بھی اُن لمحات کی ےاد آتی ہے تو انکے رونگٹے ہی نہےں بلکہ نس نس کھڑے ہو جاتے ہےں اور خشک آنکھےں اشک بار ہوتی ہے ۔ 27برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک درجنوں خواتےن حصول انصاف کی منتظر ہےں جبکہ قانون نافذ کرنے والی اےجنسےاں بھی خاموش نظر آرہی ہےں ۔بین الااقوامی حقوق البشرادارے ایمنسٹی اینٹرنیشنل نے سانحہ کنن پوش پورہ کی27ویں برسی کے موقعہ پراپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ خواتین کی آبروریزی جیسے سنگین جرم میں ملوث فوجیوں کیخلاف آج تک کوئی قانونی کارروائی نہ ہونااسبات کاثبوت ہے کہ افسپاکے تحت فوج اورفورسزکوحاصل لامحدوداختیارات اورقانونی کارروائی سے دیاگیااستثنیٰ کس قدرانصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بناہواہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پروگرام ڈائریکٹر برائے بھارت اسمتابھاسونے اپنے بیان میں کہاہے کہ افسپاکے تحت فوجی اورفورسزاہلکاروں کے گرداستثنیٰ کاجودائرہ رکھاگیاہے ،یہ اُسی کانتیجہ ہے کہ27سال بعدبھی کنن پوش پورہ کپوارہ میں ایک رات کے دوران درجنوں چھوٹی بچیوں ،حاملہ عورتوں اوربزرگ خواتین کی اجتماعی آبروریزی میں ملوث فوجی قانون کے شکنجے میں نہیں لائے گئے ہیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ افسپاکی بناءپرہی ملوث فوجی اہلکارآج تک قانون کے کٹہرے میں کھڑے نہیں ہوئے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی خاتون ذمہ دارنے مطالبہ کیاکہ کنن پوزش پورہ واقعہ کی غیرجانبدارانہ جانچ عمل میں لاکراس گھناونے جرم میں ملوث فوجیوں کوسزااورمتاثرہ خواتین کوانصاف فراہم کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ معصوم اورمجبورخواتین کی آبروریزی میں ملوث فوجی اہلکاروں کیخلاف سویلین کورٹ میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ،یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ27برس قبل کپوارہ ضلع کے کنن پوش پورہ علاقے میں پیش آئے سانحے کے سلسلے میں کپوارہ پولیس نے باضابطہ طورپرکیس بھی درج کیاجبکہ مختلف عدالتوں میں اس سانحہ کی سماعت بھی ہوئی اورمقامی حقوق انسانی کمیشن نے بھی سال2011میں حکومت کویہ ہدایت دی تھی کہ متاثرہ خواتین کومعقول معاوضہ فراہم کرنے کیساتھ ساتھ آبروریزی کے اس واقعے کی سرنوتحقیقات عمل میں لائی جائے ۔

Comments are closed.